مسئلہ ۵۶: عورت مر گئی، شوہر نے گائے، بکری وغیرہ کوئی جانور بھیجا کہ ذبح کرکے تیجہ میں کھلایا جائے اور اس کی قیمت نہیں بتائی تھی تو نہیں لے سکتا اور قیمت بتا دی تھی تو لے سکتا ہے اور اگر اختلاف ہو وہ کہتا ہے کہ بتا دی تھی اور لڑکی والا کہتا ہے کہ نہیں بتائی تھی تو اگر لڑکی والا قسم کھا لے تو اس کی بات مان لی جائے گی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۷: کوئی عورت عدّت میں تھی اسے خرچ دیتا رہا، اس امید پر کہ بعد عدّت اس سے نکاح کریگا اگر نکاح ہوگيا تو جو کچھ خرچ کیا ہے، واپس نہیں لے سکتا اور عورت نے نکاح سے انکار کر دیا تو جو اسے بطور تملیک دیا ہے، واپس لے سکتا ہے اور جو بطورِ اباحت دیا ہے، مثلاً اس کے یہاں کھانا کھاتی رہی تو یہ واپس نہیں لے سکتا۔ (2) (تنویر)
مسئلہ ۵۸: لڑکی کو جو کچھ جہیز میں دیا ہے، وہ واپس نہیں لے سکتا اور ورثہ کو بھی اختیار نہیں جبکہ مرض الموت میں نہ دیا ہو۔يوہيں جو کچھ سامان نابالغہ لڑکی کے ليے خریدا اگرچہ ابھی نہ دیا ہو یا مرض الموت میں دیا، اس کی مالک بھی تنہا لڑکی ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵۹: لڑکی والوں نے نکاح یا رخصت کے وقت شوہر سے کچھ لیا ہو یعنی بغیر ليے نکاح یا رخصت سے انکار کرتے ہوں اور شوہر نے دے کر نکاح یا رخصت کرائی تو شوہر اس چیز کو واپس لے سکتا ہے اور وہ نہ رہی تو اس کی قیمت لے سکتا ہے کہ یہ رشوت ہے۔ (4) (بحر وغیرہ) رخصت کے وقت جو کپڑے بھیجے اگر بطورِ تملیک ہیں، جیسے ہندوستان میں عموماً رواج ہے کہ ڈال بری (5)میں جوڑے بھیجے جاتے ہیں اور عرف یہی ہے کہ لڑکی کومالک کر دیتے ہیں تو انھيں واپس نہیں لے سکتا اور تملیک(6) نہ ہو تو لے سکتا ہے۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: لڑکی کو جہیز دیا پھر یہ کہتا ہے کہ میں نے بطورِ عاریت (8) دیا ہے اور لڑکی یا اُس کے مرنے کے بعد شوہر کہتا ہے کہ بطورِ تملیک دیا ہے تو اگروہ چیز ایسی ہے کہ عموماً لوگ اسے جہیز میں دیا کرتے ہیں تو لڑکی یا اس کے شوہر کا قول مانا جائے اور اگر عموماً یہ بات نہ ہو بلکہ عاریت و تملیک دونوں طرح دی جاتی ہو تو اس کے باپ یا ورثہ کا قول معتبر ہے۔ (9) (درمختار)