مسئلہ ۵۲: شوہر نے کوئی چیز عورت کے یہاں بھیجی اگر یہ کہہ دیا کہ ہدیہ ہے تو اب نہیں کہہ سکتا کہ وہ مہر میں تھی اور اگر کچھ نہ کہا تھا اور اب کہتا ہے کہ مہر میں بھیجی اور عورت کہتی ہے کہ ہدیہ ہے اور وہ چیز کھانے کی قسم سے ہے، مثلاًر وٹی، گوشت، حلوا، مٹھائی وغیرہ تو عورت سے قسم لے کر اس کا قول مانا جائے اور اگر کھانے کی قسم سے نہیں یعنی باقی رہنے والی چیز ہو، مثلاً کپڑے، بکری، گھی، شہد وغیرہا تو شوہر کو حلف دیا جائے، قسم کھا لے تو اس کی بات مانیں اور عورت کو اختیار ہوگا کہ اگر وہ چیز از قسم مہر نہیں اور باقی ہے تو واپس دے اور اپنا مہر وصول کرے۔ (3) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵۳: شوہر نے عورت کے یہاں کوئی چیز بھیجی اور عورت کے باپ نے شوہر کے یہاں کچھ بھیجا، شوہر کہتا ہے وہ چیز میں نے مہر میں بھیجی تھی تو قسم کے ساتھ اس کا قول مان لیا جائے گا اور عورت کو اختیار ہوگا کہ وہ شے واپس کرے یا مہر میں محسوب (4)کرے اور عورت کے باپ نے جو بھیجا تھا، اگر وہ شے ہلاک ہوگئی تو کچھ واپس نہیں لے سکتا اور موجود ہے تو واپس لے سکتا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: جس لڑکی سے منگنی ہوئی اس کے پاس لڑکے کے یہاں سے شکر اور میوے وغیرہ آئے، پھر کسی وجہ سے نکاح نہ ہوا تو اگر وہ چیزیں تقسیم ہو گئیں اور بھیجنے والے نے تقسیم کی اجازت بھی دے دی تھی تو واپس نہیں لے سکتا، ورنہ واپس لے سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری) تقسیم کی اجازت صراحۃً ہو یا عرفاً، مثلاً ہندوستان میں اس موقع پر ایسی چیزیں اسی ليے بھیجتے ہیں کہ لڑکی والا اپنے کنبہ اور رشتہ داروں میں بانٹے گا یہ چیزیں اس ليے نہیں ہوتیں کہ رکھ لے گا یا خود کھا جائے گا۔
مسئلہ ۵۵: شوہر نے عورت کے یہاں عیدی بھیجی، پھر یہ کہتا ہے کہ وہ روپے مہر میں بھیجے تھے، اس کا قول نہیں مانا جائے گا۔ (7) (عالمگیری)