مسئلہ ۵۰: مہر میں اختلاف ہو تو اس کی چند صورتیں ہیں:
ایک یہ کہ نفس مہر میں اختلاف ہوا، ایک کہتا ہے مہر بندھا تھا، دوسرا کہتا ہے نکاح کے وقت مہر کا ذکر ہی نہ آیا تو جو کہتا ہے بندھا تھا، گواہ پیش کرے، نہ پیش کر سکے تو انکار کرنے والے کو حلف دیا جائے اگر حلف (2) اٹھانے سے انکار کرے تو مدعی (3) کا دعویٰ ثابت اور حلف اٹھالے تو مہرِ مثل واجب ہوگا یعنی جبکہ نکاح باقی ہو یا خلوت کے بعد طلاق ہوئی ہو اور اگر خلوت سے پہلے طلاق ہوئی تو کپڑے کا جوڑا واجب ہوگا۔ اس کا حکم پیشتر بیان ہوچکا۔
دوسری صورت یہ کہ مقدار میں اختلاف ہو تو اگر مہرِ مثل اتنا ہے جتنا عورت بتاتی ہے یا زائد تو عورت کی بات قسم کے ساتھ مانی جائے اور اگر مہرِ مثل شوہر کے کہنے کے مطابق ہے یا کم تو قسم کے ساتھ شوہر کی بات مانی جائے اور اگر کسی نے گواہ پیش کیے تو اس کا قول مانا جائے، مہرِ مثل کچھ بھی ہو تو اگر دونوں نے پیش کیے تو جس کا قول مہرِ مثل کے خلاف ہے، اس کے گواہ مقبول ہیں اور اگر مہرِ مثل دونوں دعووں کے درمیان ہے، مثلاً زوج کا دعویٰ ایک ہزار کا ہے اور عورت کا دو ۲ ہزار کا اور مہرِ مثل ڈیڑھ ہزار ہے تو دونوں کو قسم دیں گے جو قسم کھا جائے، اس کا قول معتبر ہے یا جو گواہ پیش کرے، اس کا قول مانا جائے اور اگر دونوں قسم کھا جائیں یا دونوں گواہ پیش کریں تو مہرِ مثل پر فیصلہ ہوگا۔
یہ تفصیل اس وقت ہے کہ نکاح باقی ہو دخول ہوا ہو یا نہیں یا دونوں میں ایک مر چکا ہو۔ يوہيں اس صورت میں کہ دخول کے بعد طلاق دے دی ہو اور اگر قبل دخول طلاق دی ہو تو متعہ مثل (یعنی جوڑا) جس کے قول کے موافق ہو قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہے اور اگر متعہ مثل دونوں کے درمیان ہو تو دونوں پر حلف رکھیں جو حلف اٹھا لے اس کی بات معتبر ہے اور دونوں اٹھالیں تو متعہ مثل دیں گے اور اگر کوئی گواہ پیش کرے تو اس کا قول معتبر ہے اور دونوں نے پیش کیے تو جس کا قول متعہ مثل کے خلاف ہے وہ معتبر ہے اور اگر دونوں کا انتقال ہو چکا اور دونوں کے ورثہ میں اختلاف ہو تو مقدار میں زوج کے ورثہ کا قول مانا جائے اور نفس مہر میں اختلاف ہوا کہ مقرر ہوا تھا یا نہیں تو مہرِ مثل پر فیصلہ کریں گے۔ (4) (درمختار وغیرہ)