Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
75 - 106
    1معجل کہ خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہے۔اور2مؤجل جس کے ليے کوئی میعاد مقرر ہو۔ اور3مطلق جس میں نہ وہ ہو، نہ یہ (1)اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ حصہ معجل ہو، کچھ مؤجل یا مطلق یا کچھ مؤجل ہو، کچھ مطلق یا کچھ معجل اور کچھ مؤجل اور کچھ مطلق۔

     مہرِمعجل وصول کرنے کے ليے عورت اپنے کو شوہر سے روک سکتی ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ وطی و مقدمات وطی (2)سے باز رکھے، خواہ کل معجل ہو یا بعض اور شوہر کو حلال نہیں کہ عورت کو مجبور کرے، اگرچہ اس کے پیشتر عورت کی رضامندی سے وطی و خلوت ہو چکی ہو یعنی یہ حق عورت کو ہمیشہ حاصل ہے، جب تک وصول نہ کر لے۔ يوہيں اگر شوہر سفر میں لے جانا چاہتا ہے تو مہرِ معجل وصول کرنے کے ليے جانے سے انکار کرسکتی ہے۔ 

    يوہيں اگر مہرِ مطلق ہو اور وہاں کا عرف ہے کہ ایسے مہر میں کچھ قبل خلوت ادا کیا جاتا ہے تو اس کے خاندان میں جتنا پیشتر ادا کرنے کا رواج ہے، اس کا حکم مہرِ معجل کا ہے یعنی اس کے وصول کرنے کے ليے وطی و سفر سے منع کر سکتی ہے ۔

    اور اگر مہرِ مؤجل یعنی میعادی ہے اور میعاد مجہول ہے، جب بھی فوراً دینا واجب ہے۔ ہاں اگر مؤجل ہے اور میعاد یہ ٹھہری کہ موت یا طلاق پر وصول کرنے کا حق ہے تو جب تک طلاق یا موت واقع نہ ہو وصول نہیں کرسکتی،(3) جیسے عموماً ہندوستان میں یہی رائج ہے کہ مہرِ مؤجل سے یہی سمجھتے ہیں۔ (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۴۳: زوجہ نابالغہ ہے تو اس کے باپ یا دادا کو اختیار ہے کہ مہرِ معجل لینے کے ليے رخصت نہ کریں اور زوجہ خود اپنے کو شوہر کے قبضہ میں نہیں دے سکتی اور نابالغہ کا مہرِ معجل لینے سے پہلے صرف باپ یا دادا رخصت کر سکتے ہیں، ان کے سوا اور کسی ولی کو اختیار نہیں کہ رخصت کر دے۔ (4) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۴۴: عورت نے جب مہرِ معجل پا لیا تواب شوہر اسے پردیس کو بھی لے جا سکتا ہے، عورت کو اب انکار کا حق نہیں اور اگر مہرِ معجل میں ایک روپیہ بھی باقی ہے تو وطی و سفر سے باز رہ سکتی ہے۔ يوہيں اگر عورت کاباپ مع اہل و عیال پردیس کو جانا چاہتا ہے اور اپنے ساتھ اپنی جوان لڑکی کو لے جانا چاہتا ہے جس کی شادی ہو چکی ہے اور شوہر نے مہرِ معجل ادا نہیں کیا ہے تولے جا سکتا ہے اور مہر وصول ہوچکا ہے تو بغیر اجازت شوہر نہیں لے جا سکتا۔ اگر مہرِ معجل کُل ادا ہوچکا ہے صرف ایک درہم باقی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ۔۔۔۔۔۔یعنی نہ خلوت سے پہلے دینا قرار پایاہو،نہ ہی اس کے لئے کوئی مدت مقرر ہو ۔        2 ۔۔۔۔۔۔وطی سے پہلے بوس وکناروغیرہ۔

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۸۳ .

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الحادي عشر،ج۱،ص۳۱۷۔۳۱۸.

4۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،مطلب:في منع الزوجۃ نفسھا لقبض المہر،ج۴،ص۲۸۳.
Flag Counter