شرط ہے اور وہی صورتیں ہیں اور یہ بھی شرط ہے کہ عورت یا اس کا ولی یا فضولی اُسی مجلس میں قبول بھی کر لے، ورنہ کفالت صحیح نہ ہوگی اور عورت بالغہ ہو تو جس سے چاہے مطالبہ کرے شوہر سے یا ضامن سے، اگر ضامن سے مطالبہ کیا اور اس نے دیدیا توضامن شوہر سے وصول کرے اگر اُس کے حکم سے ضمانت کی ہو اور اگر بطورِ خود ضامن ہوگيا تو نہیں لے سکتا اور اگر شوہر نابالغ ہے تو جب تک بالغ نہ ہو اس سے مطالبہ نہیں کرسکتی اور اگر شوہر نابالغ کے باپ نے کفالت کی اور مہر دے دیا تو بیٹے سے نہیں وصول کر سکتا۔ ہاں اگر ضامن ہونے کے وقت یہ شرط لگا دی تھی کہ وصول کرلے گا تو اب لے سکتا ہے۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۷: زید نے اپنی لڑکی کا نکاح عمرو سے دو ہزار مہر پر کیا۔ یوں کہ ہزار میں دوں گا اور ہزار عمرو پر اور عمرو نے قبول بھی کر لیا تو دونوں ہزار عمرو پر ہیں اور زید ہزار کا ضامن قرار دیا جائے گا۔ اگر عورت نے اپنے باپ زید سے لے ليے تو زید عمرو سے وصول کر لے اور اگر عورت نے زید کے مرنے کے بعد اس کے ترکہ میں سے ہزار لے ليے تو زید کے ورثہ عمرو سے وصول کریں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: شوہر کے باپ کے کہنے سے کسی اجنبی نے ضمانت کر لی پھر ادا کرنے سے پہلے باپ مر گیا تو عورت کواختیار ہے شوہر سے لے یا اس کے باپ کے ترکہ سے، اگر ترکہ سے لیا تو باقی ورثہ شوہر سے وصول کريں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: نکاح کے وکیل نے مہر کی ضمانت کرلی، اگر شوہر کے حکم سے ہے تو واپس لے سکتا ہے ورنہ نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: شوہر نابالغ محتاج ہے تو اس کے باپ سے مہر کا مطالبہ نہیں ہوسکتا اور اگر مالدار ہے تو یہ مطالبہ ہوسکتا ہے کہ لڑکے کے مال سے مہر ادا کر دے، یہ نہیں کہ اپنے مال سے ادا کرے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: باپ نے بیٹے کا مہر ادا کر دیا اور ضامن نہ تھا تو اگر دیتے وقت گواہ بنا ليے کہ واپس لے لے گا تو لے سکتا ہے، ورنہ نہیں۔ (6) (ردالمحتار)