| بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7) |
مسئلہ ۳۲: نکاح فاسد میں تفریق یامتارکہ کے وقت سے عدّت ہے، اگرچہ عورت کو اس کی خبر نہ ہو۔ متارکہ یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے، مثلاً یہ کہے میں نے اسے چھوڑا، یا چلی جا، یا نکاح کر لے یا کوئی اور لفظ اسی کے مثل کہے اور فقط جانا، آنا ،چھوڑنے سے متارکہ نہ ہوگا، جب تک زبان سے نہ کہے اور لفظ طلاق سے بھی متارکہ ہو جائے گا مگر اس طلاق سے یہ نہ ہوگا کہ اگر پھر اس سے نکاح صحیح کرے، تو تین طلاق کا مالک نہ رہے بلکہ نکاح صحیح کرنے کے بعد تین طلاق کا اسے اختیار رہے گا۔ نکاح سے انکار کر بیٹھا متارکہ نہیں اور اگرچہ تفریق وغیرہ میں اس کا وہاں ہونا ضرور نہیں مگر کسی کا جاننا ضروری ہے اگر کسی نے نہ جانا تو عدّت پوری نہ ہوگی۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: نکاح فاسد میں نفقہ واجب نہیں، اگر نفقہ پر مصالحت ہوئی جب بھی نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: آزاد مرد نے کنیز سے نکاح کر کے پھر اپنی عورت کو خرید لیا تو نکاح فاسد ہوگيا اور غلام ماذون نے اپنی زوجہ کو خریدا تو نہیں۔ (3) (عالمگیری)(مَہرِمُسَمّیٰ کی صورتیں)
مسئلہ ۳۵: مہرِ مسمیٰ تین قسم کا ہے:
اوّل: مجہول الجنس والوصف، مثلاً کپڑا یا چوپایہ یا مکان یا باندی کے پیٹ میں جو بچہ ہے یا بکری کے پیٹ میں جو بچہ ہے یا اس سال باغ میں جتنے پھل آئیں گے، ان سب میں مہرِ مثل واجب ہے۔
دوم :معلوم الجنس مجہول الوصف، مثلاً غلام یا گھوڑا یا گائے یا بکری ان سب میں متوسط درجہ کا واجب ہے یا اس کی قیمت۔
سوم :جنس، وصف دونوں معلوم ہوں تو جو کہا وہی واجب ہے۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)(مَہرکی ضمانت)
مسئلہ ۳۶: عورت کا ولی اس کے مہر کا ضامن ہوسکتا ہے ،اگرچہ نابالغہ ہو اگرچہ خود ولی نے نکاح پڑھوایا ہو مگر شرط یہ ہے کہ وہ ولی مرض الموت میں مبتلا نہ ہو۔ اگر مرض الموت میں ہے تو دو صورتیں ہیں، وہ عورت اس کی وارث ہے تو کفالت صحیح نہیں اور اگر وارث نہ ہو تو اپنے تہائی مال میں کفالت کرسکتا ہے۔ يوہيں شوہر کا ولی بھی مہر کا ضامن ہوسکتا ہے اور اس میں بھی وہی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثامن في النکاح الفاسد وأحکامہٖ،ج۱،ص۳۳۰. و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب المہر،مطلب:في النکاح الفاسد،ج۴،ص۲۶۹. 2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الثامن في النکاح الفاسد وأحکامہٖ،ج۱،ص۳۳۰. 3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق. 4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الخامس،ج۱،ص۳۰۹،وغیرہ.