Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
72 - 106
اس وقت جس حیثیت کی تھی، دوسری بھی اپنے نکاح کے وقت اسی حیثیت کی ہے مگر پہلی میں بعد کو کمی ہوگئی اور دوسری میں زیادتی یا برعکس ہوا تو اس کا اعتبار نہیں۔ (1) (درمختار)

    مسئلہ ۲۸: اگر اس خاندان میں کوئی ایسی عورت نہ ہو، جس کا مہر اس کے ليے مہرِ مثل ہوسکے تو کوئی دوسرا خاندان جو اس کے خاندان کے مثل ہے اس میں کوئی عورت اس جیسی ہو، اُس کا مہر اس کے ليے مہرِمثل ہوگا۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۹: مہرِ مثل کے ثبوت کے ليے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہانِ عادل چاہيے، جو بلفظ شہادت بیان کریں اور گواہ نہ ہوں تو زوج کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۰: ہزار روپے کا مہر باندھا گیا اس شرط پر کہ اس شہر سے عورت کو نہیں لے جائے گا یا اس کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح نہ کریگا تو اگر شرط پوری کی تو وہ ہزار مہر کے ہیں اور اگر پوری نہ کی بلکہ اسے یہاں سے لے گیایا اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح کر لیا تو مہر مثل ہے اور اگر یہ شرط ہے کہ یہاں رکھے تو ایک ہزار مہر اور باہر لے جائے تو دو ہزار اور یہیں رکھا تو وہی ایک ہزار ہیں اور باہر لے گیا تو مہر مثل واجب مگر مہر مثل اگر دو ہزار سے زیادہ ہے تو دو ہی ہزار پائے گی زیادہ نہیں اور اگر مہر مثل ایک ہزار سے کم ہے تو پورے ایک ہزار لے گی کم نہیں اور اگر دخول سے پہلے طلاق ہوئی تو بہر صورت جو مقرر ہوا اس کا نـصف لے گی یعنی یہاں رکھا تو پانسو اور باہر لے گیا تو ایک ہزار۔ 

    يوہيں اگر کوآری اور ثیب میں دو ہزار اور ایک ہزار کی تفریق تھی تو ثیب میں ایک ہزار مہر رہے گا اور کوآری ثابت ہوئی تو مہر مثل۔ یہ شرط ہے کہ خوبصورت ہے تو دو ہزار اور بدصورت ہے تو ایک ہزار تو اگر خوبصورت ہے، دو ہزار لے گی اور بد صورت ہے تو ایک ہزار اس صورت میں مہرِ مثل نہیں۔ (4) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۳۱: نکاح فاسد میں جب تک وطی نہ ہو مہر لازم نہیں یعنی خلوتِ صحیحہ کافی نہیں اور وطی ہوگئی تو مہرِ مثل واجب ہے، جو مہر مقرر سے زائد نہ ہو اور اگر اس سے زیادہ ہے تو جو مقرر ہوا وہی دیں گے اور نکاحِ فاسد کا حکم یہ ہے کہ اُن میں ہر ایک پر فسخ کر دینا واجب ہے۔ اس کی بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے کے سامنے فسخ کرے اور اگر خود فسخ نہ کریں تو قاضی پرواجب ہے کہ تفریق کر دے اور تفریق ہوگئی یا شوہر مر گیا تو عورت پر عدّت واجب ہے جبکہ وطی ہو چکی ہو مگر موت میں بھی عدّت وہی تین حیض ہے، چار مہینے دس دن نہیں۔ (5) (درمختار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۷۳۔۲۷۶. 

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الثاني،ج۱،ص۳۰۶ . 

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۰۶. 

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۵۵۔۲۵۷،وغیرہ.

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۶۶۔۲۶۸.
Flag Counter