قابل ہے کہ اس میں صحبت ہوسکے تو ہو جائے گی ورنہ نہیں۔ (1) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: شوہر کا عضو تناسل کٹا ہوا ہے یا انثیین(2) نکال ليے گئے ہیں یا عنین (3)ہے یا خنثیٰ ہے اور اس کا مرد ہونا ظاہر ہوچکا تو ان سب میں خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: خلوتِ صحیحہ کے بعد عورت کو طلاق دی تو مہر پورا واجب ہوگا، جبکہ نکاح بھی صحیح ہو اور اگر نکاح فاسد ہے یعنی نکاح کی کوئی شرط مفقود ہے، مثلاً بغیر گواہوں کے نکاح ہوا یا دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کیا یا عورت کی عدّت میں اس کی بہن سے نکاح کیا یا جو عورت کسی کی عدّت میں ہے اس سے نکاح کیا یا چوتھی کی عدت میں پانچویں سے نکاح کیا یا حرّہ نکاح میں ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کیا تو ان سب صورتوں میں فقط خلوت سے واجب نہیں بلکہ اگر وطی ہوئی تو مہر مثل واجب ہوگا اور مہر مقرر نہ تھا تو خلوتِ صحیحہ سے نکاحِ صحیح میں مہر مثل مؤکد ہو جائے گا۔
خلوتِ صحیحہ کے یہ احکام بھی ہیں:
طلاق ۱ دی تو عورت پر عدّت واجب، بلکہ عدّت میں نان و نفقہ اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب ہے۔ بلکہ نکاحِ صحیح میں عدّت تو مطلقاً خلوت سے واجب ہوتی ہے صحیحہ ہو یا فاسدہ البتہ نکاحِ فاسد ہو تو بغیر وطی کے عدّت واجب نہیں۔ خلوت ۲ کا یہ حکم بھی ہے کہ جب تک عدت میں ہے اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ اور ۳ اس کے علاوہ چار عورتیں نکاح میں نہیں ہو سکتیں۔ اگر ۴ وہ آزاد ہے تو اس کی عدّت میں باندی سے نکاح نہیں کر سکتا۔ اور ۵ اس عورت کو جس سے خلوت صحیحہ ہوئی اس زمانہ میں طلاق دے جو موطؤہ کے طلاق کا زمانہ ہے۔ اور ۶ عدّت میں اسے طلاق بائن دے سکتا ہے مگر اس سے رجعت نہیں کر سکتا، نہ طلاق رجعی دینے کے بعد فقط خلوتِ صحیحہ سے رجعت ہو سکتی ہے۔ اور ۷ اس کی عدّت کے زمانہ میں شوہر مر گیا تو وارث نہ ہو گی۔ خلوت ۸ سے جب مہر موکد ہوچکا تو اب ساقط نہ ہوگا اگرچہ جدائی عورت کی جانب سے ہو۔ (5) (جوہرہ، عالمگیری، درمختار وغیرہا)
مسئلہ ۲۴: اگر میاں بی بی میں تفریق ہوگئی، مرد کہتا ہے کہ خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی، عورت کہتی ہے ہوگئی تو عورت کا قول معتبر ہے