روزہ ہو یا نفلی نماز ہو تو یہ چیزیں خلوتِ صحیحہ سے مانع نہیں اور اگر دونوں ایک جگہ تنہائی میں جمع ہوئے مگر کوئی مانع شرعی یا طبعی یا حسّی پایا جاتا ہے تو خلوت فاسدہ ہے۔ (1) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۱۷: عورت مرد کے پاس تنہائی میں گئی مرد نے اسے نہ پہچانا، تھوڑی دیر ٹھہر کر چلی آئی یا مرد عورت کے پاس گیا اور اسے نہیں پہچانا، چلا آیا تو خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی، لہٰذا اگر عورت خلوتِ صحیحہ کا دعویٰ کرے اور مرد یہ عذر پیش کرے تو مان لیا جائے گا اور اگر مرد نے پہچان لیا اور عورت نے نہ پہچانا تو خلوتِ صحیحہ ہوگئی۔ (2) (جوہرہ، تبیین)
مسئلہ ۱۸: لڑکا جو اس قابل نہیں کہ صحبت کر سکے مگر اپنی عورت کے ساتھ تنہائی میں رہا یا زوجہ اتنی چھوٹی لڑکی ہے کہ اس قابل نہیں اس کے ساتھ اس کا شوہر رہا تو دونوں صورتوں میں خلوتِ صحیحہ نہ ہوئی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: عورت کے اندام نہانی(4) میں کوئی ایسی چیز پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے وطی نہیں ہوسکتی، مثلاً وہاں گوشت آگیا یا مقام جُڑ گیا یا ہڈی پیدا ہوگئی یا غدود (5) ہوگيا تو ان صورتوں میں خلوتِ صحیحہ نہیں ہوسکتی۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: جس جگہ اجتماع ہوا (7)وہ جگہ اس قابل نہیں کہ وہاں وطی کی جائے تو خلوتِ صحیحہ نہ ہوگی، مثلاً مسجد اگرچہ اندر سے بند ہو اور راستہ اور میدان اور حمام میں جب کہ اس میں کوئی ہو یا اس کا دروازہ کھلا ہو اور اگر بند ہو تو ہو جائے گی اور جس چھت پر پردہ کی دیوار نہ ہو یا ٹاٹ وغیرہ موٹی چیز کا پردہ نہ ہو یا ہے مگر اتنا نیچا ہے کہ اگر کوئی کھڑا ہو تو ان دونوں کو دیکھ لے تو اس پر بھی نہ ہوگی ورنہ ہو جائے گی اور اگر مکان ایسا ہے جس کا دروازہ کھلا ہوا ہے کہ اگر کوئی باہر کھڑا ہو تو ان دونوں کو دیکھ سکے یا یہ اندیشہ ہے کہ کوئی آجائے تو خلوتِ صحیحہ نہ ہوگی۔ (8) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۲۱: خیمہ میں ہو جائے گی۔ يوہيں باغ میں اگر دروازہ ہے اور وہ بند ہے تو ہو جائے گی، ورنہ نہیں اور محل اگر اس