Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
68 - 106
محض احتیاطاً تجدید نکاح کی تو دوبارہ نکاح کا مہر واجب نہ ہوا اور اگر مہر ادا کر چکا تھا پھر عورت نے ہبہ کر دیا پھر اس کے بعد شوہر نے اقرار کیا کہ اس کا مجھ پر اتنا ہے تو یہ مقدار لازم ہوگئی، خواہ یہ اقرار بقصدِ زیادتی ہو یا نہیں۔ (1) (درمختار، خانیہ) 

    مسئلہ ۱۴: مہر مقرر شدہ پر شوہر نے اضافہ کیا مگر خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق دی، تو اصل مہر کا نصف عورت پائے گی اس اضافہ کا بھی نصف لینا چاہے تو نہیں ملے گا۔ (2) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۵: عورت کل مہر یا جز معاف کرے تو معاف ہو جائے گا بشرطیکہ شوہر نے انکار نہ کر دیا ہو۔ (3) (درمختار) اور اگر وہ عورت نابالغہ ہے اور اس کا باپ معاف کرنا چاہتا ہے تو نہیں کر سکتا اور بالغہ ہے تو اس کی اجازت پر معافی موقوف ہے۔ (4) (ردالمحتار)
(خلوتِ صحیحہ کس طرح ہوگی)
    مسئلہ ۱۶: خلوتِ صحیحہ یہ ہے کہ زوج زوجہ ایک مکان میں جمع ہوں اور کوئی چیز مانع جماع نہ ہو(5)۔ یہ خلوت جماع ہی کے حکم میں ہے اور موانع تین ہیں: 

    حسّی ۱ ، شرعی ۲ ، طبعی ۳ ۔ 

    مانع حسّی جیسے مرض کہ شوہر بیمار ہے تو مطلقاً خلوت صحیحہ نہ ہوگی اور زوجہ بیمار ہو تو اس حد کی بیمار ہو کہ وطی سے ضرر(6) کا اندیشہ صحیح ہو اورا یسی بیماری نہ ہو تو خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔ 

    مانع طبعی جیسے وہاں کسی تیسرے کا ہونا، اگرچہ وہ سوتا ہو یا نابینا ہو، یا اس کی دوسری بی بی ہو یا دونوں میں کسی کی باندی ہو،

ہاں اگر اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ کسی کے سامنے بیان نہ کر سکے گا تو اس کا ہونا مانع نہیں یعنی خلوتِ صحیحہ ہو جائے گی۔ مجنون و معتوہ بچہ کے حکم میں ہيں اگر عقل کچھ رکھتے ہیں تو خلوت نہ ہوگی ورنہ ہو جائے گی اور اگر وہ شخص بے ہوشی میں ہے تو خلوت ہو جائے گی۔ اگر وہاں عورت کا کُتّا ہے تو خلوتِ صحیحہ نہ ہوگی اور اگر مرد کا ہے اور کٹکھنا(7) ہے جب بھی نہ ہوگی ورنہ ہو جائے گی۔ 

    مانع شرعی مثلاً عورت حیض یا نفاس میں ہے یا دونوں میں کوئی مُحرم ہو(8)، احرام فرض کا ہو یا نفل کا، حج کا ہو یا عمرہ کا، یا ان میں کسی کا رمضان کا روزہ ادا ہو یا نمازِ فرض میں ہو، ان سب صورتوں میں خلوتِ صحیحہ نہ ہو گی اور اگر نفل یا نذر یا کفارہ یا قضا کا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۳۸.

و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،باب في ذکر مسائل المہر،ج۱،ص۱۷۵.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۳۹. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.

4۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،مطلب:فی حطّ المھروالابراء منہ،ج۴،ص۲۳۹.

5۔۔۔۔۔۔یعنی جماع کرنے سے کوئی چیزرکاوٹ نہ ہو۔    6۔۔۔۔۔۔تکلیف۔

7۔۔۔۔۔۔ کاٹنے والا ۔                8۔۔۔۔۔۔یعنی حالت احرام میں ہو۔
Flag Counter