Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
66 - 106
سے ہوا اور مہر میں خون یا شراب یا خنزیر کا ذکر آیا یا یہ کہ شوہر اپنی پہلی بی بی کو طلاق دے دے تو ان سب صورتوں میں مہرِ مثل واجب ہوگا۔ (1) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۴: اگر شوہر غلام ہے اور ایک مدّت معینہ تک عورت کی خدمت کرنا مہر ٹھہرا اور مالک نے اس کی اجازت بھی دے دی ہو تو صحیح ہے ورنہ عقد صحیح نہیں۔ آزاد شخص عورت کے مولیٰ یا ولی کی خدمت کریگا یا شوہر کا غلام یا اس کی باندی عورت کی خدمت کرے گی تو یہ مہر صحیح ہے۔ (2) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۵: اگر مہر میں کسی دوسرے آزاد شخص کا خدمت کرنا ٹھہرا تو اگر نہ اُس کی اجازت سے ایسا ہوا، نہ اس نے جائز رکھا تو اس خدمت کی قیمت مہر ہے اور اگر اُس کے حکم سے ہوا اور خدمت وہ ہے جس میں عورت کے پاس رہنا سہنا ہوتا ہے تو واجب ہے کہ خدمت نہ لے بلکہ اس کی قیمت لے اور اگر وہ خدمت ایسی نہیں تو خدمت لے سکتی ہے اور اگر خدمت کی نوعیت معین نہیں تو اگر اُس قسم کی لے گی تو وہ حکم ہے اور اِس قسم کی تو یہ۔ (3) (فتح القدیر) 

    مسئلہ ۶: شغار یعنی ایک شخص نے اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح دوسرے سے کر دیا اور دوسرے نے اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس سے کردیا اور ہرایک کا مہر دوسرا نکاح ہے تو ایسا کرنا گناہ و منع ہے اورمہرِ مثل واجب ہوگا۔ (4) (درمختار) 

    مسئلہ ۷: کسی شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں نے نکاح کیا بعوض اس غلام کے، حالانکہ وہ آزاد تھا یا مٹکے کی طرف اشارہ کر کے کہا بعوض اس سرکہ کے اور وہ شراب ہے تو مہر مثل واجب ہے۔ يوہيں اگر کپڑے یا جانور یا مکان کے عوض کہا اور جنس نہیں بیان کی یعنی یہ نہیں کہا کہ فلاں قسم کا کپڑا یا فلاں جانور تو مہرِ مثل واجب ہے۔ (5) (درمختار) 

    مسئلہ ۸: نکاح میں مہر کا ذکر ہی نہ ہوا یا مہر کی نفی کر دی کہ بلا مہر نکاح کیا تو نکاح ہو جائے گا اور اگر خلوتِ صحیحہ ہوگئی یادونوں سے کوئی مر گیا تو مہر مثل واجب ہے بشرطیکہ بعد عقد آپس میں کوئی مہر طے نہ پا گیا ہو اور اگر طے ہو چکا تو وہی طے شدہ ہے۔ يوہيں اگر قاضی نے مقرر کر دیا تو جو مقرر کر دیا وہ ہے اور ان دونوں صورتوں میں مہر جس چیز سے مؤکد ہوتا ہے، مؤکد ہو جائے گا اور مؤکد نہ ہوا بلکہ خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق ہوگئی ،تو ان دونوں صورتوں میں بھی ایک جوڑا کپڑا واجب ہے یعنی کرتہ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السابع في المہر،الفصل الاول،ج۱،ص۳۰۲،۳۰۳. 

و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۲۹۔۲۳۲.

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۲۹،وغیرہ. 

3۔۔۔۔۔۔ ''فتح القدیر''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۳،ص۲۲۳،۲۲۴. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب المہر،ج۴،ص۲۲۸. 

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۳۳.
Flag Counter