ہے کہ دس درہم لے یا وہ چیز۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱: نکاح میں دس ۱۰ درہم یا اس سے کم مہر باندھا گیا ،تو دس ۱۰ درہم واجب اور زیادہ باندھا ہو تو جو مقرر ہوا واجب۔ (2)(متون)
مسئلہ ۲: وطی یا خلوت صحیحہ یا دونوں میں سے کسی کی موت ہو ان سب سے مہر مؤکد (3)ہو جاتا ہے کہ جو مہر ہے اب اس میں کمی نہیں ہو سکتی۔ يوہيں اگر عورت کو طلاق بائن دی تھی اور عدّت کے اندر اس سے پھر نکاح کر لیا تو یہ مہر بغیر دخول وغیرہ کے مؤکد ہو جائیگا۔ ہاں اگر صاحبِ حق نے کل یا جز معاف کر دیا تو معاف ہو جائے گا اور اگر مہر مؤکد نہ ہوا تھا اور شوہر نے طلاق دے دی تو نصف واجب ہوگا اور اگر طلاق سے پہلے پورا مہر ادا کر چکا تھا تو نصف تو عورت کا ہوا ہی اور نصف شوہر کو واپس ملے گا مگر اس کی واپسی میں شرط یہ ہے کہ یا عورت اپنی خوشی سے پھیر دے یا قاضی نے واپسی کا حکم دے دیا ہو اور یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو شوہر کا کوئی تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا، مثلاً اس کو بیچنا، ہبہ کرنا (4)، تصدّق کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا ۔
اور اگر وہ مہر غلام ہے تو شوہر اس کو آزاد نہیں کر سکتا اور قاضی کے حکم سے پیشتر (5) عورت اس میں ہر قسم کا تصرف کر سکتی ہے مگر بعد حکم قاضی اس کی آدھی قیمت دینی ہو گی اور اگر مہر میں زیادتی ہو، مثلاً گائے، بھینس وغیرہ کوئی جانور مہر میں تھا، اس کے بچہ ہوا یا درخت تھا، اس میں پھل آئے یا کپڑا تھا، رنگا گیا یا مکان تھا، اس میں کچھ نئی تعمیر ہوئی یا غلام تھا، اس نے کچھ کمایا تو اگر زوجہ کے قبضہ سے پیشتر اس مہر میں زیادتی(6) متولد ہے، اس کے نصف کی عورت مالک ہے اور نصف کا شوہر ورنہ کل زیادتی کی بھی عورت ہی مالک ہے۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: جو چیز مال متقوم نہیں وہمَہرنہیں ہو سکتی اور مہر مثل واجب ہوگا، مثلاً مہر یہ ٹھہرا کہ آزاد شوہر عورت کی سال بھر تک خدمت کریگا یا یہ کہ اسے قرآن مجید یا علمِ دین پڑھا دے گا یا حج و عمرہ کرا دے گا یا مسلمان مرد کا نکاح مسلمان عورت