حدیث ۲: ابو داود و نسائی ام المومنین ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ نجاشی نے ان کا نکاح نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ کیا اور چار ہزار مہر کے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی طرف سے خود ادا کيے اور شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ انھیں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں بھیج دیا۔ (1)
حدیث ۳: ابو داود و ترمذی و نسائی و دارمی راوی، کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے نکاح کیا اور مہر کچھ نہیں بندھا اور دخول سے پہلے اس کا انتقال ہوگيا۔ ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عورت کو مہرِ مثل ملے گا، نہ کم نہ زیادہ اور اس پر عدّت ہے اور اُسے میراث ملے گی۔ معقل بن سنان اشجعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ بروع بنت واشق کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم فرمایا تھا۔ یہ سن کر ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خوش ہوئے۔ (2)
حدیث ۴: حاکم و بیہقی عقبہ بن عامر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''بہتر وہ مہر ہے جو آسان ہو۔'' (3)
حدیث ۵: ابو یعلی و طبرانی صہیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو شخص نکاح کرے اور نیت یہ ہو کہ عورت کو مہر میں سے کچھ نہ دے گا، توجس روز مرے گا زانی مرے گا اور جو کسی سے کوئی شے خریدے اور یہ نیت ہو کہ قیمت میں سے اُسے کچھ نہ دے گا تو جس دن مرے گا، خائن مرے گا اور خائن نار میں ہے۔'' (4)