( لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ اِنۡ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوۡہُنُّ اَوْ تَفْرِضُوۡا لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ۚۖ وَّمَتِّعُوۡہُنَّ ۚ عَلَی الْمُوۡسِعِ قَدَرُہٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوۡفِ ۚ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۲۳۶﴾وَ اِنۡ طَلَّقْتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبْلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنۡ یَّعْفُوۡنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیۡ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ؕ وَ اَنۡ تَعْفُوۡۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ؕ وَلَا تَنۡسَوُا الْفَضْلَ بَیۡنَکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۲۳۷﴾ ) (3)
تم پر کچھ مطالبہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دو، جب تک تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو یا مہر نہ مقرر کیا ہو اور ان کو کچھ برتنے کو دو، مالدار پر اس کے لائق اور تنگ دست پر اس کے لائق حسبِ دستور برتنے کی چیز واجب ہے، بھلائی والوں پر اورا گر تم نے عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی اور ان کے ليے مہر مقرر کر چکے تھے تو جتنا مقرر کیا اس کا نصف واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں معاف کر دیں یا وہ زیادہ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ اور اے مردو! تمھارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے زیادہ نزدیک ہے اور آپس میں احسان کرنا نہ بھولو، بے شک اﷲ (عزوجل) تمھارے کام دیکھ رہا ہے۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ہے ابو سلمہ کہتے ہیں، میں نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مہر کتنا تھا؟ فرمایا: حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا مہر ازواجِ مطہرات کے ليے ساڑھے بارہ اوقیہ تھا'' ۔(4) یعنی پانسو ۵۰۰ درم۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔پ۵،النسآء:۲۴.
2۔۔۔۔۔۔پ۴،النسآء:۴.
3۔۔۔۔۔۔پ۲،البقرۃ:۲۳۶۔۲۳۷.
4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب النکاح،باب الصداق...إلخ،الحدیث:۷۸۔(۱۴۲۶)،ص۷۴۰.