Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
62 - 106
 (عزوجل) ہمارے ليے مبارک کرے یا تو نے ٹھیک کیا اور اگر اُس کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ اجازت کے الفاظ استہزا کے طور پر کہے تو اجازت نہیں۔ اجازتِ فعلی مثلاً مہر بھیج دینا، اُس کے ساتھ خلوت کرنا۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۵: فضولی نے نکاح کیا اور مر گیا، اس کے مرنے کے بعد جس کی اجازت پر موقوف تھا، اس نے اجازت دی صحیح ہوگيا اگرچہ دونوں طرف سے دو فضولیوں نے ایجاب و قبول کیا ہو اور فضولی نے بیع کی ہو تو اس کے مرنے کے بعد جائز نہیں کر سکتا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۶: فضولی اپنے کيے ہوئے نکاح کو فسخ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا، نہ قول سے فسخ کر سکتا ہے مثلاً کہے میں نے فسخ کر دیا، نہ فعل سے مثلاً اُسی شخص کا نکاح اس عورت کی بہن سے کر دیا تو پہلا فسخ نہ ہوگا اور اگر فضولی نے مرد کی بغیر اجازت نکاح کر دیا، اس کے بعد اسی شخص نے اس فضولی کو وکیل کیا کہ میرا کسی عورت سے نکاح کر دے، اس نے اس پہلی عورت کی بہن سے نکاح کیا تو پہلا فسخ ہوگيا اور کہتا کہ میں نے فسخ کیا تو فسخ نہ ہوتا۔ (3) (خانیہ) 

    مسئلہ ۲۷: فضولی نے چار عورتوں سے ایک عقد میں کسی کا نکاح کر دیا، اُس نے ان میں سے ایک کو طلاق دیدی تو باقیوں کے نکاح کی اجازت ہوگئی اور پانچ عورتوں سے متفرق عقد کے ساتھ نکاح کیا تو شوہر کو اختیار ہے کہ ان میں سے چار کو اختیار کر لے اور ایک کو چھوڑ دے۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۸: غلام اور باندی کا نکاح مولیٰ کی اجازت پر موقوف رہتا ہے، وہ جائز کرے تو جائز، رد کرے تو باطل۔ خواہ مدبر ہوں یا مکاتب یا ام ولد یا وہ غلام جس میں کا کچھ حصہ آزاد ہو چکا اور باندی کو جو مہر ملے گا اُس کا مالک مولیٰ ہے مگر مکاتبہ اور جس باندی کا بعض آزاد ہوا ہے ان کو جو مہر ملے گا انھيں کا ہوگا۔ (5) (خانیہ)
مہر کا بیان
    اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
    ( فَمَا اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہٖ مِنْہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعْدِ الْفَرِیۡضَۃِ ؕ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱،ص۲۹۹. 

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،مطلب:في الوکیل والفضولی في النکاح،ج۴،ص۲۱۸. 

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في فسخ عقد الفضولی، ج۱، ص۱۶۱. 

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱،ص۲۹۹. 

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في نکاح الممالیک،ج۱،ص۱۶۰،۱۶۱.
Flag Counter