اور یہ حکم نکاح کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بیع وغیرہ تمام عقود (1) کا یہی حکم ہے، مثلاً مرد نے لوگوں سے کہا، گواہ ہو جاؤ میں نے فلانی عورت سے نکاح کیا اور عورت کو خبر پہنچی اس نے جائز کر دیا تو نکاح نہ ہوا، یا عورت نے کہا، گواہ ہو جاؤ کہ میں نے فلاں شخص سے جو موجود نہیں ہے نکاح کیا اور اسے جب خبر پہنچی تو جائز کر دیا نکاح نہ ہوا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: پانچ صورتوں میں ایک شخص کا ایجاب قائم مقام قبول کے بھی ہوگا:
1دونوں کا ولی ہو مثلاً یہ کہے میں نے اپنے بیٹے کا نکاح اپنی بھتیجی سے کر دیا یا پوتے کا نکاح پوتی سے کر دیا۔
2دونوں کا وکیل ہو، مثلاً میں نے اپنے موکل کا نکاح اپنی موکلہ سے کر دیا اور اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ جو دو گواہ مرد کے وکیل کرنے کے ہوں، وہی عورت کے وکیل بنانے کے ہوں اور وہی نکاح کے بھی گواہ ہوں۔
3ایک طرف سے اصیل (3) ، دوسری طرف سے وکیل، مثلاً عورت نے اسے وکیل بنایا کہ میرا نکاح تو اپنے ساتھ کر لے اس نے کہا میں نے اپنی موکلہ کا نکاح اپنے ساتھ کیا۔
4ایک طرف سے اصیل ہو دوسری طرف سے ولی، مثلاً چچا زاد بہن نابالغہ سے اپنا نکاح کرے اور اس لڑکی کا یہی ولی اقرب بھی ہے اور اگر بالغہ ہو اور بغیر اجازت اس سے نکاح کیا تو اگرچہ جائز کر دے نکاح باطل ہے۔
5ایک طرف سے ولی ہو دوسری طرف سے وکیل، مثلاً اپنی لڑکی کا نکاح اپنے موکل سے کرے۔
اور ۱ اگر ایک شخص دونوں طرف سے فضولی ہو یا ایک ۲ طرف سے فضولی ہو، دوسری طرف سے وکیل یا ایک ۳ طرف سے فضولی ہو، دوسری طرف سے ولی یا ایک ۴ طرف سے فضولی ہو، دوسری طرف سے اصیل تو ان چاروں صورتوں میں ایجاب و قبول دونوں نہیں کر سکتا اگر کیا تو نکاح نہ ہوا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: فضولی نے ایجاب کیا اور قبول کرنے والا کوئی دوسرا ہے، جس نے قبول کیا خواہ وہ اصیل ہو یا وکیل یا ولی یافضولی تو یہ عقد اجازت پر موقوف رہا، جس کی طرف سے فضولی نے ایجاب یا قبول کیااس نے جائز کر دیا، جائز ہوگيا اور رد کردیا،باطل ہوگيا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: فضولی نے جو نکاح کیا اُس کی اجازت قول و فعل دونوں سے ہو سکتی ہے، مثلاً کہا تم نے اچھا کیا یا اﷲ