مقدار بڑھا دی تو نکاح شوہر کی اجازت پر موقوف رہا اور اگر شوہر کو علم ہوگيا اور عورت سے وطی کی تو اجازت ہوگئی اورلا علمی میں کی تو نہیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: کسی کو بھیجا کہ فلانی سے میری منگنی کر آ۔ وکیل نے جا کر اس سے نکاح کر دیا ہوگيا اور اگر وکیل سے کہا فلاں کی لڑکی سے میری منگنی کر دے، اس نے لڑکی کے باپ سے کہا اپنی لڑکی مجھے دے، اس نے کہا دی،اب وکیل کہتا ہے میں نے اس لفظ سے اپنے موکل کا نکاح مراد لیا تھا تو اگر وکیل کا لفظ منگنی کے طور پر تھا اورلڑکی کے باپ کا جواب بھی عقدکے طور پر نہ تھا تو نکاح نہ ہوااوراگر جواب عقد کے طور پر تھا تو نکاح ہوگيا مگر وکیل سے ہوا موکل سے نہ ہوا اور اگر وکیل اور لڑکی کے باپ میں موکل سے نکاح کے متعلق بات چیت ہو چکنے کے بعد لڑکی کے باپ نے کہا میں نے اپنی لڑکی کا نکاح اتنے مہر پر کر دیا، یہ نہ کہا کہ کس سے وکیل سے یا موکل سے، وکیل نے کہا میں نے قبول کی تو لڑکی کا نکاح اس وکیل سے ہوگيا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: یہ بات توپہلے بتا دی گئی ہے کہ نکاح کے وکیل کویہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے سے نکاح پڑھوادے۔ ہاں اگر عورت نے وکیل سے کہہ دیا کہ تو جو کچھ کرے منظورہے تو اب وکیل دوسرے کو وکیل کر سکتاہے یعنی دوسرے سے پڑھوا سکتا ہے اور اگر دو شخصوں کو مرد یاعورت نے وکیل بنایا، ان میں ایک نے نکاح کر دیا جائز نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: عورت نے نکاح کا کسی کو وکیل بنایا پھر اُس نے بطورِ خود نکاح کرلیا تو وکیل کی وکالت جاتی رہی، وکیل کواس کا علم ہوا یا نہ ہوا اور اگر اس نے وکالت سے معزول کیا تو جب تک وکیل کو اس کا علم نہ ہو معزول نہ ہوگا، یہاں تک کہ معزول کرنے کے بعد وکیل کو علم نہ ہوا تھا، اس نے نکاح کر دیا ہوگيا اور اگر مرد نے کسی خاص عورت سے نکاح کا وکیل کیا تھا پھر موکل نے اس عورت کی ماں یا بیٹی سے نکاح کر لیا تو وکالت ختم ہوگئی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: جس کے نکاح میں چار عورتیں موجود ہیں اُس نے نکاح کا وکیل کیا تو یہ وکالت معطل رہے گی، جب ان میں سے کوئی بائن ہو جائے، اس وقت وکیل اپنی وکالت سے کام لے سکتا ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: کسی کی زبان بند ہوگئی اس سے کسی نے پوچھا، تیری لڑکی کے نکاح کا وکیل ہو جاؤں، اس نے کہا ہاں ہاں، اس کے سوا کچھ نہ کہا اور وکیل نے نکاح کر دیا صحیح نہ ہوا۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: جس مجلس میں ایجاب ہوا اگر اُسی میں قبول نہ ہوا تو وہ ایجاب باطل ہوگيا، بعد مجلس قبول کرنا بے کار ہے