تھاکہ اس سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے تو نکاح ہوگيا اور طلاق پڑ گئی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: وکیل سے کہا کسی عورت سے نکاح کر دے، وکیل نے اُس عورت سے کیا جس کو موکل توکیل سے پہلے چھوڑ چکا ہے، اگر موکل نے اسکی بدخلقی(2) وغیرہ کی شکایت وکیل سے نہ کی ہو تو نکاح ہو جائے گا اور اگر جس سے نکاح کیا اسے وکیل بنانے کے بعد چھوڑا ہے تو نہ ہوا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: وکیل سے کہا فلانی یا فلانی سے کر دے تو جس ایک سے کریگا ہو جائے گا اوراگر دونوں سے ایک عقد میں کیا(4) تو کسی سے نہ ہوا۔ (5) (خانیہ)
مسئلہ ۱۲: وکیل سے کہا ایک عورت سے نکاح کر دے، اس نے دو سے ایک عقد میں کیا تو کسی سے نافذ نہ ہوا پھر اگر موکل ان میں سے ایک کو جائز کر دے تو جائز ہوجائے گا اور دونوں کو تو دونوں، اور اگر دو عقد میں دونوں سے نکاح کیا تو پہلا لازم ہو جائے گا اور دوسرا موکل کی اجازت پر موقوف رہے گا اور اگر دو عورتوں سے ایک عقد کے ساتھ نکاح کرنے کوکہا تھا، اس نے ایک سے کیا یا دو سے دو عقدوں میں کیا تو جائز ہوگيا اور اگر کہا تھا فلانی سے کر دے، وکیل نے اس کے ساتھ ایک عورت ملا کر دونوں سے ایک عقد میں کیا تو جس کو بتا دیا تھا اس کا ہوگيا۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: وکیل سے کہا اس سے میرا نکاح کر دے، بعد کومعلوم ہوا کہ وہ شوہر والی ہے پھر اس عورت کا شوہر مر گیا یا اس نے طلاق دے دی اور عدّت بھی گزر گئی، اب وکیل نے اس سے نکاح کر دیا تو ہوگيا۔ (7) (خانیہ)
مسئلہ ۱۴: وکیل سے کہا میری قوم کی عورت سے نکاح کر دے، اس نے دوسری قوم کی عورت سے کیا، جائز نہ ہوا۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: وکیل سے کہا اتنے مہر پر نکاح کر دے اور اس میں اتنا معجل ہو،وکیل نے مہر تووہی رکھا مگر معجل کی