Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
57 - 106
    مسئلہ ۲۲: عورت نے شوہر کو دھوکا دیا اوراپنا نسب دوسرا بتایا تو شوہر کو حق فسخ نہیں، چاہے رکھے یا طلاق دیدے۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۳: اگر غیر کفو سے عورت نے خود یا اس کے ولی نے نکاح کر دیا مگر اس کا غیر کفو ہونا معلوم نہ تھا اورکفو ہونا اس نے ظاہر بھی نہ کیا تھا تو فسخ کا اختیار نہیں۔ پہلی صورت میں عورت کو نہیں، دوسری میں کسی کو نہیں۔ (2) (خانیہ، عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۴: عورت مجہولۃ النسب (3)سے کسی غیر شریف نے نکاح کیا، بعد میں کسی قرشی نے دعویٰ کیا کہ یہ میری لڑکی ہے اور قاضی نے اس کی بیٹی ہونے کا حکم دے دیا تو اُس شخص کونکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے۔ (4) (عالمگیری)
نکاح کی وکالت کا بيان
    مسئلہ ۱: نکاح کی وکالت میں گواہ شرط نہیں۔ (5) (عالمگیری) بغیر گواہوں کے وکیل کیا اور اُس نے نکاح پڑھا دیا ہوگيا۔ گواہ کی یوں ضرورت ہے کہ اگر انکار کر دیا کہ میں نے تجھ کو وکیل نہیں بنایا تھا تواب وکالت ثابت کرنے کے ليے گواہوں کی حاجت ہے۔ 

    مسئلہ ۲: عورت نے کسی کو وکیل بنایا کہ تو جس سے چاہے میرا نکاح کر دے تو وکیل خوداپنے نکاح میں اسے نہیں لاسکتا۔ يوہيں مرد نے عورت کو وکیل بنایا تو وہ عورت اپنا نکاح اس سے نہیں کرسکتی۔ (6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳: مرد نے عورت کو وکیل کیا کہ تو اپنے ساتھ میرا نکاح کر دے یا عورت نے مرد کو وکیل کیا کہ میرانکاح اپنے ساتھ کرلے، اُس نے کہا میں نے فلاں مرد (موکل کا نام لے کر) یا فلانی عورت (موکلہ کا نام لے کر) سے اپنا نکاح کیا، ہوگيا قبول کی بھی حاجت نہیں۔ (7) (عالمگیری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الخامس في الاکفاء، ج۱، ص۲۹۳. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الاکفاء، ج۱، ص۱۶۴.

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح، الباب الخامس في الاکفاء،ج۱،ص۲۹۲،۲۹۳. 

3۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ عورت جس کانسب معلوم نہ ہو۔

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الخامس في الاکفاء، ج۱، ص۲۹۳.

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب السادس في الوکالۃ بالنکاح وغیرھا،ج۱،ص۲۹۴. 

6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۹۴،۲۹۵.     7۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۹۵.
Flag Counter