کے کفو نہیں مگر چونکہ کفاء ت کا مدار(1) عرف دنیوی پر ہے اور اس زمانہ میں تقویٰ و دیانت پر عزت کا مدار نہیں بلکہ اب تو دنیوی وجاہت(2) دیکھی جاتی ہے اوریہ لوگ چونکہ عرف میں وجاہت والے کہے جاتے ہیں، لہٰذا علمائے متاخرین نے ان کے کفو ہونے کا فتویٰ دیا جب کہ ان کی نوکریاں عرف میں ذلیل نہ ہوں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: اوقاف کی نوکری بھی منجملہ پیشہ کے ہے، اگر ذلیل کام پر نہ ہو تو تاجر وغیرہ کا کفو ہوسکتا ہے۔ يوہيں علم دین پڑھانے والے تاجر وغیرہ کے کفو ہیں، بلکہ علمی فضیلت تو تمام فضیلتوں پر غالب ہے کہ تاجر وغیرہ عالم کے کفو نہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: نکاح کے وقت کفو تھا، بعد میں کفاء ت جاتی رہی تو نکاح فسخ نہیں کیا جائے گا اور اگر پہلے کسی کا پیشہ کم درجہ کا تھا جس کی وجہ سے کفو نہ تھا اور اس نے اس کام کو چھوڑ دیا اگر عار باقی ہے(5) تو اب بھی کفو نہیں ورنہ ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: کفاء ت میں شہری اور دیہاتی ہونا معتبرنہیں جبکہ شرائط مذکورہ پائے جائیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: حسن وجمال کااعتبار نہیں مگر اولیا کوچاہيے کہ اس کا بھی خیال کر لیں، کہ بعد میں کوئی خرابی نہ واقع ہو۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: امراض و عیوب مثلاً جذام، جنون، برص، گندہ دہنی(9) وغیرہا کا اعتبار نہیں۔ (10) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: کسی نے اپنا نسب چھپایا اور دوسرا نسب بتا دیا بعد کو معلوم ہوا تو اگر اتنا کم درجہ ہے کہ کفو نہیں تو عورت اوراس کے اولیا کوحق فسخ حاصل ہے اوراگر اتنا کم نہیں کہ کفو نہ ہو تو اولیا کو حق نہیں ہے عورت کو ہے اور اگر اس کانسب اس سے بڑھ کر ہے جو بتایا تو کسی کو نہیں۔ (11) (عالمگیری)