مسئلہ ۹: مرد کے پاس مال ہے مگر جتنا مہر ہے اتنا ہی اس پر قرض بھی ہے اور مال اتنا ہے کہ قرض ادا کر دے یا دَینِ مہر تو کفو ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: عورت محتاج ہے اور اس کے باپ، دادا بھی ایسے ہی ہیں تو اس کا کفو بھی بحیثیت مال وہی ہوگا کہ مہر معجل اور نفقہ دینے پر قادر ہو۔ (2) (خانیہ)
مسئلہ ۱۱: مالدار شخص کا نابالغ لڑکا اگرچہ وہ خود مال کا مالک نہیں مگر مالدار قرار دیا جائے گا کہ چھوٹے بچے، باپ، دادا کے تمول (3)سے غنی کہلاتے ہیں۔ (4) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۱۲: محتاج نے نکاح کیا اور عورت نے مہر معاف کر دیا تو وہ کفو نہیں ہو جائے گا، کہ کفاء ت کا اعتبار وقتِ عقد ہے اور عقد کے وقت وہ کفو نہ تھا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: نفقہ پر قدرت کفو ہونے میں اس وقت ضروری ہے کہ عورت قابلِ جماع ہو، ورنہ جب تک اس قابل نہ ہو شوہر پر اس کا نفقہ واجب نہیں، لہٰذا اُس پر قدرت بھی ضروری نہیں، صرف مہر معجل پر قدرت کافی ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: جن لوگوں کے پیشے ذلیل سمجھے جاتے ہوں وہ اچھے پیشہ والوں کے کفو نہیں، مثلاً جوتا بنانے والے، چمڑا پکانے والے، سا ئیس(7)،چرواہے یہ ان کے کفو نہیں جو کپڑا بیچتے، عطر فروشی کرتے، تجارت کرتے ہیں اور اگر خود جوتا نہ بناتا ہو بلکہ کارخانہ دار ہے کہ اس کے یہاں لوگ نوکر ہیں یہ کام کرتے ہیں یا دکاندار ہے کہ بنے ہوئے جوتے لیتا اور بیچتا ہے تو تاجر وغیرہ کا کفوہے۔ يوہيں اور کاموں میں۔ (8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: ناجائز محکموں کی نوکری کرنے والے یا وہ نوکریاں جن میں ظالموں کا اتباع کرنا ہوتا ہے، اگرچہ یہ سب پیشوں سے رذیل(9) پیشہ ہے اور علمائے متقدمین نے اس بارہ میں یہی فتویٰ دیا تھا کہ اگرچہ یہ کتنے ہی مالدار ہوں، تاجر وغیرہ