صرف باپ مسلمان ہو اس کا کفو نہیں جس کا دادا بھی مسلمان ہو اور باپ دادا دو پشت سے اسلام ہو تو اب دوسری طرف اگرچہ زیادہ پشتوں سے اسلام ہو کفو ہیں مگر باپ دادا کے اسلام کا اعتبار غیر عرب میں ہے، عربی کے ليے خود مسلمان ہوا یا باپ، دادا سے اسلام چلا آتا ہو سب برابر ہیں۔ (1) (خانیہ، درمختار)
مسئلہ ۴: مرتد اگر اسلام لایا تو وہ اس مسلمان کا کفو ہے جو مرتد نہ ہوا تھا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵: غلام، حرّہ کا کفو نہیں، نہ وہ جو آزاد کیا گیا حرّہ اصلیہ(3) کا کفو ہے اور جس کا باپ آزاد کیا گیا، وہ اس کا کفو نہیں جس کا دادا آزاد کیا گیا اور جس کا دادا آزاد کیا گیا وہ اس کا کفو ہے جس کی آزادی کئی پشت سے ہے۔ (4) (خانیہ)
مسئلہ ۶: جس لونڈی کے آزاد کرنے والے اشراف ہوں، اس کا کفو وہ نہیں جس کے آزاد کرنے والے غیر اشراف ہوں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: فاسق شخص متقی کی لڑکی کا کفو نہیں اگرچہ وہ لڑکی خود متقیہ نہ ہو۔ (6) (درمختار وغیرہ) اور ظاہر کہ فسق اعتقادی(7) فسقِ عملی(8) سے بدر جہا بدتر، لہٰذا سُنی عورت کا کفو وہ بد مذہب نہیں ہوسکتا جس کی بدمذہبی حدِ کفر کو نہ پہنچی ہو اور جو بد مذہب ایسے ہیں کہ ان کی بد مذہبی کفر کو پہنچی ہو، ان سے تو نکاح ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ مسلمان ہی نہیں، کفو ہونا تو بڑی بات ہے جیسے روافض و وہابیہ زمانہ کہ ان کے عقائد و اقوال کا بیان حصہ اوّل میں ہوچکا ہے۔
مسئلہ ۸: مال میں کفاء ت کے یہ معنی ہیں کہ مرد کے پاس اتنا مال ہو کہ مہر معجل اور نفقہ(9) دینے پر قادر ہو۔ اگر پیشہ نہ کرتا ہو تو ایک ماہ کا نفقہ دینے پر قادر ہو، ورنہ روز کی مزدوری اتنی ہو کہ عورت کے روز کے ضروری مصارف(10) روز دے سکے۔ اس کی ضرورت نہیں کہ مال میں یہ اس کے برابر ہو۔ (11) (خانیہ، درمختار)