Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
53 - 106
کفو کا بیان
    حدیث ۱: ترمذی و حاکم و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب ایسا شخص پیغام بھیجے، جس کے خُلق و دین کو پسند کرتے ہو تو نکاح کر دو، اگر نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فسادِ عظیم ہوگا۔'' (1) 

    حدیث ۲: ترمذی شریف میں مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو۔ (1) نماز کا جب وقت آجائے،( 2) جنازہ جب موجود ہو، (3 )بے شوہر والی کا جب کفو ملے۔'' (2) 

    کفو کے یہ معنی ہیں کہ مرد عورت سے نسب وغیرہ میں اتنا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح عورت کے اولیا کے ليے باعثِ ننگ و عار (3) ہو، کفاء ت (4) صرف مرد کی جانب سے معتبر ہے عورت اگرچہ کم درجہ کی ہو اس کا اعتبار نہیں۔ (5) (عامہ کتب) 

    مسئلہ ۱: باپ، دادا کے سوا کسی اور ولی نے نابالغ لڑکے کا نکاح غیر کفوسے کر دیا تو نکاح صحیح نہیں اور بالغ اپنا خود نکاح کرنا چاہے تو غیر کفو عورت سے کر سکتا ہے کہ عورت کی جانب سے اس صورت میں کفاء ت معتبر نہیں اور نابالغ میں دونوں طرف سے کفاء ت کا اعتبار ہے۔ (6) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲: کفاء ت میں چھ چیزوں کا اعتبار ہے: 

    1 نسب، 2  اسلام، 3  حرفہ، (7) 4 حریت، (8) 4  دیانت، 5  مال۔ 

    قریش میں جتنے خاندان ہیں وہ سب باہم کفو ہیں، یہاں تک کہ قرشی غیر ہاشمی ہاشمی کا کفو ہے اور کوئی غیر قرشی قریش کا کفو نہیں۔ قریش کے علاوہ عرب کی تمام قومیں ایک دوسرے کی کفو ہیں، انصار و مہاجرین سب اس میں برابر ہیں، عجمی النسل عربی کا کفو نہیں مگر عالمِ دین کہ اس کی شرافت نسب کی شرافت پر فوقیت رکھتی ہے۔ (9) (خانیہ، عالمگیری) 

    مسئلہ ۳: جو خود مسلمان ہوا یعنی اس کے باپ، دادا مسلمان نہ تھے وہ اس کا کفو نہیں جس کا باپ مسلمان ہو اور جس کا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذی''،أبواب النکاح،باب ماجاء کم من ترضون دینہ...إلخ،الحدیث:۱۰۸۶،ج۲،ص۳۴۴. 

2۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذی''، أبواب الجنائز،باب ماجاء فی تعجیل الجنازۃ،الحدیث:۱۰۷۷،ج۲،ص۳۳۹. 

3۔۔۔۔۔۔بے عزتی ورسوائی کاسبب۔        4۔۔۔۔۔۔حسب ونسب میں ہم پلہ ہونا۔

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۱۹۴. 

6۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الکفاء ۃ،ج۴،ص۱۹۵. 

7۔۔۔۔۔۔ یعنی پیشہ۔            8۔۔۔۔۔۔ آزادہو نا۔

9 ۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الاکفاء،ج۱،ص۱۶۳. 

و''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الخامس في الاکفاء،ج۱،ص۲۹۰،۲۹۱.
Flag Counter