بیان کرے مگر یہ نہ کہے کہ رات میں بالغ ہوئی بلکہ یہ کہ میں اس وقت بالغ ہوئی اور اپنے نفس کو اختیار کیا اور اس لفظ سے یہ مراد لے کہ میں اس وقت بالغ ہوں تاکہ جھوٹ نہ ہو۔ (1) (بزازیہ وغیرہا)
مسئلہ ۴۹: عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ اسے خیارِ بلوغ حاصل ہے اس بنا پر اس نے اس پر عملدرآمد بھی نہ کیا، اب اسے یہ مسئلہ معلوم ہوا تو اب کچھ نہیں کر سکتی کہ اس کے ليے جہل عذر نہیں اور لونڈی کسی کے نکاح میں ہے اب آزاد ہوئی تو اسے خیارِ عتق حاصل ہے کہ بعد آزادی چاہے اس نکاح پر باقی رہے یا فسخ کرالے۔ اس کے ليے جہل عذر ہے کہ باندیوں کو مسائل سیکھنے کا موقع نہیں ملتا اور حرّہ کو ہر وقت حاصل ہے اور نہ سیکھنا خود اسی کا قصور ہے لہٰذا قابلِ معذوری نہیں۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۰: لڑکا یا ثیب بالغ ہوئے تو سکوت سے خیارِ بلوغ باطل نہ ہوگا ،جب تک صاف طور پر اپنی رضا یا کوئی ایسا فعل جو رضا پر دلالت کرے (مثلاً بوسہ لینا، چھونا، مہر لینا دینا، وطی پر راضی ہونا) نہ پایا جائے، مجلس سے اٹھ جانا بھی خیار کو باطل نہیں کرتا کہ اس کا وقت محدود نہیں عمر بھر اس کا وقت ہے۔ (3) (خانیہ) رہا یہ امر کہ فسخِ نکاح سے مہر لازم آئے گا یا نہیں اگر اُس سے وطی نہ ہوئی تومہر بھی نہیں اگرچہ فرقت جانب زوج سے ہو اور وطی ہو چکی ہے تو مہر لازم ہوگا اگرچہ فرقت جانب زوجہ سے ہو۔ (4) (جوہرہ)
مسئلہ ۵۱: اگر وطی ہو چکی ہے تو فسخ کے بعد عورت کے ليے عدّت بھی ہے ورنہ نہیں اور اس زمانہ عدّت میں اگر شوہر اسے طلاق دے تو واقع نہ ہوگی اور یہ فسخ طلاق نہیں، لہٰذا اگر پھر انھیں دونوں کا باہم نکاح ہو تو شوہر تین طلاق کا مالک ہو گا۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: ثیب کا نکاح ہوا اس کے بعد شوہر کے یہاں سے کچھ تحفہ آیا، اس نے لے لیا رضا ثابت نہ ہوئی۔ يوہيں اگر اس کے یہاں کھانا کھایا یا اس کی خدمت کی اور پہلے بھی خدمت کرتی تھی تو رضا نہیں۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: نابالغ غلام کا نکاح نابالغہ لونڈی سے ان کے مولیٰ نے کر دیا پھر ان کو آزاد کر دیا۔ اب بالغ ہوئے تو ان کو خیارِ بلوغ حاصل نہیں اور اگر لونڈی کو آزاد کرنے کے بعد نکاح کیا تو بالغہ ہونے کے بعد اسے خیار حاصل ہے۔ (7) (عالمگیری)