Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
51 - 106
    مسئلہ ۴۶: نابالغ لڑکا اور لڑکی اگرچہ ثیب ہو اور مجنون و معتوہ کے نکاح پر ولی کو ولایت اجبار حاصل ہے یعنی اگرچہ یہ لوگ نہ چاہیں ولی نے جب نکاح کر دیا ہوگيا۔ پھر اگر باپ دادا یا بیٹے نے نکاح کر دیا ہے تو اگرچہ مہرِ مثل سے بہت کم یا زیادہ پر نکاح کیا یا غیر کفو سے کیا جب بھی ہو جائے گا بلکہ لازم ہو جائے گا کہ ان کو بالغ ہونے کے بعد یا مجنون کو ہوش آنے کے بعد اُس نکاح کے توڑنے کا اختیار نہیں۔ يوہيں مولیٰ کا نکاح کیا ہوا بھی فسخ نہیں ہوسکتا، ہاں اگر باپ، دادا یا لڑکے کا سوء اختیار معلوم ہوچکا ہو مثلاًاس سے پیشتر اس نے اپنی لڑکی کا نکاح کسی غیر کفو فاسق وغیرہ سے کر دیا اور اب یہ دوسرا نکاح غیر کفو سے کریگا تو صحیح نہ ہوگا۔

     يوہيں اگر نشہ کی حالت میں غیر کفو سے یا مہر مثل میں زیادہ کمی کے ساتھ نکاح کیا تو صحیح نہ ہوا اور اگر باپ، دادا یا بیٹے کے سوا کسی اور نے کیا ہے اور غیر کفو یا مہر مثل میں زیادہ کمی بیشی کے ساتھ ہوا تو مطلقاً صحیح نہیں اور اگر کفو سے مہر مثل کے ساتھ کیا ہے تو صحیح ہے مگر بالغ ہونے کے بعد اور مجنون کو افاقہ کے بعداور معتوہ کو عاقل ہونے کے بعد فسخ کا اختیار ہوگا اگرچہ خلوت(1) بلکہ وطی ہو چکی ہو یعنی اگر نکاح ہونا پہلے سے معلوم ہے تو بکر بالغ ہوتے ہی فوراً اور اگر معلوم نہ تھا تو جس وقت معلوم ہوا اسی وقت فوراً فسخ کر سکتی ہے اگر کچھ بھی وقفہ ہوا تو اختیار فسخ جاتا رہا۔ یہ نہ ہوگا کہ آخر مجلس تک اختیار باقی رہے مگر نکاح فسخ اس وقت ہوگا جب قاضی فسخ کا حکم بھی دیدے لہٰذا اسی اثنا میں قبل حکمِ قاضی اگر ایک کا انتقال ہوگيا تو دوسرا وارث ہوگا اورپورا مہر لازم ہوگا۔ (2) (درمختار، خانیہ، جوہرہ وغیرہا) 

    مسئلہ ۴۷: عورت کو خیار بلوغ حاصل تھا جس وقت بالغ ہوئی، اسی وقت اسے یہ خبر بھی ملی کہ فلاں جائداد فروخت ہوئی جس کا شفعہ یہ کر سکتی ہے، ایسی حالت میں اگر شفعہ کرنا ظاہر کرتی ہے تو خیاربلوغ جاتا ہے اور اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے تو شفعہ جاتا ہے اور چاہتی یہ ہے کہ دونوں حاصل ہوں لہٰذا اس کا طریقہ یہ ہے کہ کہے میں دونوں حق طلب کرتی ہوں، پھر تفصیل میں پہلے خیاربلوغ کو ذکر کرے اور ثیب کو ایسا معاملہ پیش آئے تو شفعہ کو مقدم کرے اور اس کی وجہ سے خیار بلوغ باطل نہ ہوگا۔ (3) (درمختار) 

    مسئلہ ۴۸: عورت جس وقت بالغہ ہوئی اسی وقت کسی کو گواہ بنائے کہ میں ابھی بالغ ہوئی اور اپنے نفس کو اختیار کرتی ہوں اور رات میں اگر اسے حیض آیا تو اسی وقت اپنے نفس کو اختیار کرے اور صبح کو گواہوں کے سامنے اپنا بالغ ہونا اور اختیار کرنا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی خلوت صحیحہ۔

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۶۶۔۱۷۱.

و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الخیارات التي تتعلق بالنکاح،ج۱،ص۱۹۰.

و''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثانی ،ص۱۰،۱۱،وغیرھا.

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولي،ج۴،ص۱۷۸.
Flag Counter