مسئلہ ۴۱: ولی نے عورت بالغہ کا نکاح اس کے سامنے کر دیا اور اُسے اس کا علم بھی ہوا اور سکوت کیا تو یہ رضاہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۴۲: یہ احکام جو مذکور ہوئے ولی اقرب کے ہیں، اگر ولی بعید یا اجنبی نے نکاح کا اذن طلب کیا تو سکوت اذن نہیں بلکہ اگر عورت کوآری ہے تو صراحۃً اذن کے الفاظ کہے یا کوئی ایسا فعل کرے جو قول کے حکم میں ہو، مثلاً مہر یا نفقہ طلب کرنا، خوشی سے ہنسنا ،خلوت پر راضی ہونا، مہر یا نفقہ قبول کرنا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۴۳: ولی نے عورت سے کہا میں یہ چاہتا ہوں کہ فلاں سے تیرا نکاح کردوں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے، جب چلا گیا تو کہنے لگی میں راضی نہیں اور ولی کو اس کا علم نہ ہوا اور نکاح کر دیا تو صحیح ہوگيا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: بکر (کوآری) وہ عورت ہے جس سے نکاح کے ساتھ وطی نہ کی گئی ہو، لہٰذا اگر زینہ (4) پر چڑھنے یا اترنے یا کودنے یا حیض یا زخم یا بلا نکاح زیادہ عمر ہو جانے یا زنا کی وجہ سے بکارت(5) زائل ہوگئی جب بھی وہ کوآری ہی کہلائے گی۔ يوہيں اگر اس کا نکاح ہوا مگر شوہر نامرد ہے یا اس کا عضو تناسل مقطوع(6) ہے اس وجہ سے تفریق ہوگئی بلکہ اگر شوہر نے وطی سے پہلے طلاق دے دی یا مر گیا اگرچہ ان سب صورتوں میں خلوت ہو چکی ہو جب بھی بکر ہے مگر جب چند بار اس نے زنا کیا کہ لوگوں کو اس کا حال معلوم ہوگيا یا اُس پر حد زنا قائم کی گئی اگرچہ ایک ہی بار واقع ہوا ہو تو اب وہ عورت بکر نہیں قرار دی جائے گی اور جوعورت کوآری نہ ہو اس کو ثیب کہتے ہیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: لڑکی کا نکاح نابالغہ سمجھ کر اس کے باپ نے کر دیا وہ کہتی ہے میں بالغہ ہوں میرا نکاح صحیح نہ ہوا اور اس کا باپ یا شوہر کہتا ہے نابالغہ ہے اور نکاح صحیح ہے تو اگر اس کی عمر نو برس کی ہو اور مراہقہ ہو تو لڑکی کا قول مانا جائے گا اور اگر دونوں نے اپنے اپنے دعوے پر گواہ پیش کيے تو بلوغ کے گواہ کو ترجیح ہے۔ يوہيں اگر لڑکے مراہق (8) نے اپنے بلوغ کا دعویٰ کیا تو اسی کا قول معتبر ہے، مثلاً اس کے باپ نے اس کی کوئی چیز بیچ ڈالی، یہ کہتا ہے میں بالغ ہوں اور بیع صحیح نہ ہوئی اس کا باپ یا خریدار کہتا ہے نابالغ ہے تو بالغ ہونا قرار پائے گاجب کہ اس کی عمر اس قابل ہو۔ (9) (درمختار)