Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
49 - 106
خبر دی گئی اور عورت نے وہی لفظ کہے تو قبول سمجھا جائے گا۔ (1) (درمختار) 

    مسئلہ ۳۶: ولی اس عورت سے خود اپنا نکاح کرنا چاہتا ہے اور اجازت لینے گیا اس نے سکوت کیا تو یہ رضا ہے اور اگر نکاح اپنے سے کر لیا اب خبر دی اور سکوت کیا تو یہ رد ہے رضا نہیں۔ (2) (درمختار) 

    مسئلہ ۳۷: کسی خاص کی نسبت عورت سے اذن مانگا اس نے انکار کر دیا مگر ولی نے اسی سے نکاح کر دیا۔ اب خبر پہنچی اور ساکت رہی تو یہ اذن ہوگيا اور اگرکہا کہ میں تو پہلے ہی سے اُس سے نکاح نہیں چاہتی ہوں تو یہ رد ہے اور اگر جس وقت خبر پہنچی انکار کیا پھر بعد کو رضا ظاہر کی تو یہ نکاح جائز نہ ہوا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۸: اذن لینے میں یہ بھی ضروری ہے کہ جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہو اس کا نام اس طرح لیا جائے جس کووہ عورت جان سکے۔ اگر یوں کہا کہ ایک مرد سے تیرا نکاح کر دوں یا یوں کہ فلاں قوم کے ایک شخص سے نکاح کر دوں تو یوں اذن نہیں ہوسکتا۔ اور اگر یوں کہا کہ فلاں یا فلاں سے تیرا نکاح کر دوں اور عورت نے سکوت کیا تو اذن ہوگيا۔ ان دونوں میں جس ایک سے چاہے کر دے یا یوں کہا کہ پڑوس والوں میں سے کسی سے نکاح کر دوں یا یوں کہا کہ چچا زاد بھائیوں میں کسی سے نکاح کر دوں اور سکوت کیا اور ان دونوں صورتوں میں ان سب کو جانتی بھی ہو تو اذن ہوگيا۔ ان میں جس ایک سے کریگا ہو جائے گا اور سب کو جانتی نہ ہو تو اذن نہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)

    مسئلہ ۳۹: عورت نے اذنِ عام دے دیا، مثلاً ولی نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے پیغام بھیجا ہے، عورت نے کہا جو تو کرے مجھے منظور ہے یا جس سے تو چاہے نکاح کر دے تو یہ اذنِ عام ہے جس سے چاہے نکاح کردے مگر اس صورت میں بھی اگر کسی خاص شخص کی نسبت عورت پیشتر انکار کر چکی ہے تو اس کے بارے میں اذن نہ سمجھا جائے گا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)

    مسئلہ ۴۰: اذن لینے میں مہر کا ذکر شرط نہیں اور بعض مشائخ نے شرط بتایا لہٰذا ذکر ہو جانا چاہيے کہ اختلاف سے بچنا ہے اور اگر ذکر نہ کیا تو ضرور ہے کہ جو مہر باندھا جائے وہ مہر مثل سے کم نہ ہو اور کم ہو تو بغیر عورت کے راضی ہوئے عقد صحیح نہ ہو گا۔ اور اگر زیادہ کمی ہو تو اگرچہ عورت راضی ہو اولیا کو اعتراض کا حق حاصل ہے یعنی جب کہ کسی غیر ولی نے نکاح کیا ہو اور ولی نے خود ایسا کیا تو اب کون اعتراض کرے۔ (6) (ردالمحتار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۷. 

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۸. 

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۸. 

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق، ص۱۵۸.     5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۱۵۹. 

6۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الولی،ج۴،ص۱۵۹.
Flag Counter