مسئلہ ۳۲: کوآری عورت سے اُس کے ولی یا ولی کے وکیل یا قاصد نے اذن مانگا یا ولی نے بلا اجازت ليے نکاح کر دیا۔ اب اس کے قاصد نے یا کسی فضولی عادل نے خبر دی اور عورت نے سکوت کیا یا ہنسی یا مسکرائی یا بغیر آواز کے روئی تو ان سب صورتوں میں اذن سمجھا جائے گا کہ پہلی صورت میں نکاح کر دینے کی اجازت ہے، دوسری میں نکاح کیا ہوا منظور ہے اور اگر اذن طلب کرتے وقت یا جس وقت نکاح ہو جانے کی خبر دی گئی، اس نے سُن کر کچھ جواب نہ دیا بلکہ کسی اور سے کلام کرنا شروع کیا مگر نکاح کو رد نہ کیا تو یہ بھی اذن ہے اور اگر چپ رہنا اس وجہ سے ہوا کہ اسے کھانسی یا چھینک آگئی تو یہ رضا نہیں اس کے بعد رد کر سکتی ہے۔ يوہيں اگر کسی نے اس کامونھ بند کر دیا کہ بول نہ سکی تو رضا نہیں۔ اور ہنسنا اگر بطورِ استہزا کے (1) ہو یا رونا آواز سے ہو تواذن نہیں۔ (2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: ایک درجہ کے دو ولی نے بیک وقت دو شخصوں سے نکاح کر دیا اور دونوں کی خبر ایک ساتھ پہنچی عورت نے سکوت کیا(3)، تو دونوں موقوف ہیں اپنے قول یا فعل سے جس ایک کو جائز کرے جائز ہے اور دوسرا باطل اور دونوں کو جائز کیا تو دونوں باطل اور دونوں نے اذن مانگا اورعورت نے سکوت کیا تو جو پہلے نکاح کر دے وہ ہو گا۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: ولی نے نکاح کر دیا عورت کو خبر پہنچی اس نے سکوت کیا مگر اس وقت شوہر مر چکا تھا تو یہ اذن نہیں اور اگر شوہر کے مر جانے کے بعد کہتی ہے کہ میرے اذن سے میرے باپ نے اس سے نکاح کیا۔اور شوہر کے ورثہ انکار کریں تو عورت کا قول مانا جائے گا لہٰذا وارث ہوگی اور عدّت واجب۔ اور اگر عورت نے یہ بیان کیا کہ میرے اذن کے بغیر نکاح ہوا مگر جب نکاح کی خبر پہنچی میں نے نکاح کو جائز کیا تو اب ورثہ کا قول معتبر ہے اب نہ مہر پائے گی نہ میراث۔ رہا یہ کہ عدّت گزارے گی يا نہيں اگر واقع میں سچی ہے تو عدّت گزارے ورنہ نہیں مگر نکاح کرنا چاہے تو عدّت تک روکی جائے گی کہ جب اس نے ا پنا نکاح ہونا بیان کیا تو اب بغیر عدّت کیونکر نکاح کرے گی۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: عورت سے اذن (6) لینے گئے اس نے کہا کسی اور سے ہوتا تو بہتر تھاتو یہ انکار ہے اور اگر نکاح کے بعد