سکوت کیا اور کچھ جواب نہ دیا اور عورت کے بچہ بھی پیدا ہوگيا تو اب نکاح صحیح مانا جائے گا۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: جس عورت کا کوئی عصبہ نہ ہو، وہ اگر اپنا نکاح جان بوجھ کر غیر کفو سے کرے تو نکاح ہو جائے گا۔ (2) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۲۷: جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دیں بعد عدت اس نے جان بوجھ کر غیر کفو سے نکاح کر لیا اور ولی راضی نہیں یا ولی کو اس کا غیر کفو ہونا معلوم نہیں تو یہ عورت شوہر اوّل کے ليے حلال نہ ہوئی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: ایک درجہ کے چند ولی ہوں۔ بعض کا راضی ہو جانا کافی ہے اور اگر مختلف درجے کے ہوں تو اقرب کا راضی ہونا ضروری ہے کہ حقیقۃً یہی ولی ہے اور جس ولی کی رضا سے نکاح ہوا جب اس سے کہا گیا تو یہ کہتا ہے کہ یہ شخص کفو ہے تو اب اس کی رضا بے کار ہے اس کی رضا سے بقیہ ورثہ کا حق ساقط نہ ہوگا۔ (4) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۲۹: راضی ہونا دو طرح ہے۔ ایک یہ کہ صراحۃً کہہ دے کہ میں راضی ہوں۔ دوسرے یہ کہ کوئی ایسا فعل پایا جائے جس سے راضی ہونا سمجھا جاتا ہو، مثلاً مہر پر قبضہ کرنا یا مہر کا مطالبہ یا دعویٰ کر دینا یا عورت کو رخصت کر دینا کہ یہ سب افعال راضی ہونے کی دلیل ہیں، اس کو دلالۃً رضا کہتے ہیں اور ولی کا سکوت رضا نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: شافعیہ(6) عورت بالغہ کوآری نے حنفی (7)سے نکاح کیا اور اس کا باپ راضی نہیں تو نکاح صحیح ہوگيا۔ يوہيں اس کا عکس۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: عورت بالغہ عاقلہ کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کوئی نہیں کر سکتا۔ نہ اس کا باپ نہ بادشاہِ اسلام ،کوآری ہو یاثیب۔ يوہيں مرد بالغ آزاد اور مکاتب و مکاتبہ کا عقد نکاح بِلا (9)ان کی مرضی کے کوئی نہیں کر سکتا۔ (10) (عالمگیری، درمختار)