مسئلہ ۱۹: ولی اقرب غائب ہے اس وقت دُور والے ولی نے نکاح کر دیا تو صحیح ہے اور اگر اس کی موجودگی میں نکاح کیا تو اس کی اجازت پر موقوف ہے محض اس کا سکوت کافی نہیں بلکہ صراحۃً یا دلالۃً اجازت کی ضرورت ہے، یہاں تک کہ اگر ولی اقرب مجلس میں موجود ہو تو یہ بھی اجازت نہیں اور اگر اس ولی اقرب نے نہ اجازت دی تھی، نہ رد کیا اور مر گیا یا غائب ہوگيا کہ اب ولایت اسی دُور والے ولی کو پہنچی تو وہ قبل میں اس کا نکاح کر دینا اجازت نہیں بلکہ اب اس کی جدید اجازت درکار ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: ولی کے غائب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اگر اس کا انتظار کیا جائے تو وہ جس نے پیغام دیا ہے اور کفو بھی ہے، ہاتھ سے جاتا رہے گا اگر ولی قریب مفقود الخبرہو یا کہیں دورہ کرتا ہو کہ اس کا پتا معلوم نہ ہو یا وہ ولی اُسی شہر میں چھپا ہوا ہے مگر لوگوں کو اس کا حال معلوم نہیں اور ولی ابعد نے نکاح کر دیا اور وہ اب ظاہرہوا تو نکاح صحیح ہوگيا۔ (2) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۱: ولی اقرب صالح ولایت نہیں، مثلاً بچہ ہے یا مجنون تو ولی ابعد ہی نکاح کا ولی ہے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: مولیٰ اگر غائب بھی ہو جائے اور اس کا پتا بھی نہ چلے، جب بھی لونڈی، غلام کے نکاح کی ولایت اسی کو ہے اس کے رشتہ دار ولی نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: لونڈی آزاد ہوگئی اور اس کا عصبہ کوئی نہ ہو تو وہ عصبہ ہے، جس نے اسے آزاد کیا اور اسی کی اجازت سے نکاح ہوگا، وہ مرد ہو یا عورت اور ذوی الارحام پر آزاد کنندہ (5)مقدم ہے۔ (6) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۲۴: کفو نے پیغام دیا اور وہ مَہر مثل بھی دینے پر تیار ہے مگر ولی اقرب لڑکی کا نکاح اس سے نہیں کرتا بلکہ بلاوجہ انکار کرتا ہے تو ولی ابعد نکاح کر سکتا ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: نابالغ اور مجنون اور لونڈی غلام کے نکاح کے ليے ولی شرط ہے، بغیر ولی ان کا نکاح نہیں ہوسکتا اور حرہ بالغہ عاقلہ نے بغیر ولی کفو سے نکاح کیا تو نکاح صحیح ہوگيا اور غیر کفو سے کیا تو نہ ہوا اگرچہ نکاح کے بعد راضی ہوگيا۔ البتہ اگر ولی نے