بھی کافرہ کے ولی ہیں کہ ان کو اُس کا نکاح کرنے کی اجازت ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: لونڈی، غلام ولی نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ مکاتب اپنے لڑکے کا ولی نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: کافر اصلی، کافر اصلی کا ولی ہے اور مرتد کسی کا بھی ولی نہیں، نہ مسلم کا،نہ کافر کایہاں تک کہ مرتد مرتد کا بھی ولی نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ولی اگر پاگل ہوگيا تو اس کی ولایت جاتی رہی اور اگر اس قسم کا پاگل ہے کہ کبھی پاگل رہتا ہے اور کبھی ہوش میں تو ولایت باقی ہے، افاقہ کی حالت میں جو کچھ تصرفات کریگا نافذ ہوں گے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: لڑکا معتوہ یا مجنون ہے اور اسی حالت میں بالغ ہوا تو باپ کی ولایت اب بھی بدستور باقی ہے اور اگر بلوغ کے وقت عاقل تھا پھر مجنون یا معتوہ ہوگيا تو باپ کی ولایت پھر عود کر آئے گی(5)اور کسی کا باپ مجنون ہوگيا تو اُس کا بیٹا ولی ہے اپنے باپ کا نکاح کر سکتا ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: اپنے بالغ لڑکے کا نکاح کر دیا اور ابھی لڑکے نے جائز نہ کیا تھا کہ پاگل ہوگيا، اب اس کے باپ نے نکاح جائز کر دیا تو جائز ہوگيا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: نابالغ نے اپنا نکاح خود کیا اور نہ اس کا ولی ہے، نہ وہاں حاکم تو یہ نکاح موقوف ہے بالغ ہو کر اگر جائز کردے گا ہو جائے گا اور اگر نابالغ نے بالغ عورت سے نکاح کیا پھر غائب ہوگيا پھر عورت نے دوسرا نکاح کیا اور نابالغ نے بلوغ کے وقت نکاح جائز کر دیا تھا اگر دوسرا نکاح اجازت سے پہلے کیا تو دوسرا ہوگيا اور بعد میں تو نہیں اور اب پہلا ہوگيا۔(8) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: دو برابر کے ولی نے نکاح کر دیا۔ مثلاً اس کے دو۲حقیقی بھائی ہیں دونوں نے نکاح کر دیا ،تو جس نے پہلے کیا وہ صحیح ہے اور اگر دونوں نے ایک ساتھ کیا ہو یا معلوم نہ ہو کہ کون پیچھے ہے، کون پہلے تو دونوں باطل۔ (9) (درمختار)