Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
44 - 106
    مسئلہ ۵: ان سب کے بعد بادشاہِ اسلام ولی ہے پھر قاضی جب کہ سلطان کی طرف سے اسے نابالغوں کے نکاح کا اختیار دیا گیا ہو اور اگر اس کے متعلق یہ کام نہ ہو اور نکاح کر دیا پھر سلطان کی طرف سے یہ خدمت بھی اسے سپرد ہوئی اور قاضی نے اس نکاح کو جائز کر دیا تو جائز ہوگيا۔ (1) (خانیہ) 

    مسئلہ ۶: قاضی نے اگر کسی نابالغہ لڑکی سے اپنا نکاح کر لیا تو یہ نکاح بغیر ولی کے ہوا یعنی اس صورت میں قاضی ولی نہیں۔ يوہيں بادشاہ نے اگر ایسا کیا تو یہ بھی بے ولی کے (2) نکاح ہوا اور اگر قاضی نے نابالغہ لڑکی کا نکاح اپنے باپ یا لڑکے سے کر دیا تو یہ بھی جائز نہیں۔ (3) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۷: قاضی کے بعد قاضی کا نائب ہے جب کہ بادشاہ اسلام نے قاضی کو یہ اختیار دیا ہو اور قاضی نے اس نائب کو اجازت دی ہو یا تمام امور میں اس کو نائب کیا ہو۔ (4) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۸: وصی کو یہ اختیار نہیں کہ یتیم کا نکاح کرد ے اگرچہ اس یتیم کے باپ دادا نے یہ وصیت بھی کی ہو کہ میرے بعد تم اس کا نکاح کر دینا ،البتہ اگر وہ قریب کا رشتہ دار یا حاکم ہے تو کر سکتا ہے کہ اب وہ ولی بھی ہے۔ (5) (درمختار) 

    مسئلہ ۹: نابالغ بچے کی کسی نے پرورش کی، مثلاً اسے متبنے کیا(6) یا لاوارث بچہ کہیں پڑا ملا، اُسے پال لیا تو یہ شخص اس کے نکاح کا ولی نہیں۔ (7) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۰: لونڈی، غلام کے نکاح کا ولی ان کا مولیٰ ہے، اس کے سوا کسی کو ولایت نہیں اگر کسی اور نے یا اس نے خود نکاح کر لیا تو وہ نکاح مولیٰ کی اجازت پر موقوف رہے گا جائز کر دے گا جائز ہو جائے گا، رد کر دے گا باطل ہو جائے گا اور اگر غلام دو شخص میں مشترک ہے تو ایک شخص تنہا اس کا نکاح نہیں کر سکتا۔ (8) (خانیہ) 

    مسئلہ ۱۱: مسلمان شخص کافرہ کے نکاح کا ولی نہیں مگر کافرہ باندی کا ولی اس کا مولیٰ ہے۔ يوہيں بادشاہِ اسلام اورقاضی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح، فصل في الأولیاء،ج۱،ص۱۶۵.

2 ۔۔۔۔۔۔ولی کے بغیر۔

3 ۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۳.

و''الدرالمختار''، کتاب النکاح، باب الولی، ج۴، ص۱۸۷. 

4۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح، مطلب: لایصح تولیۃ الصغیرشیخاًعلی خیرات، ج۴، ص۱۸۵. 

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح، باب الولي،ج۴، ص۱۸۶. 

6۔۔۔۔۔۔منہ بولابیٹابنایا۔

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الرابع في الاولیاء،ج۱،ص۲۸۴.

8۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في الاولیاء،ج۱،ص۱۶۵.
Flag Counter