مسئلہ ۱: قرابت کی وجہ سے ولایت عصبہ بنفسہٖ کے ليے ہے یعنی وہ مرد جس کو اس سے قرابت کسی عورت کی وساطت سے نہ ہو یا یوں سمجھو کہ وہ وارث کہ ذوی الفروض کے بعد جو کچھ بچے سب لے لے اور اگر ذوی الفروض نہ ہوں تو سارا مال یہی لے۔ ایسی قرابت والا ولی ہے اور یہاں بھی وہی ترتیب ملحوظ ہے جو وراثت میں معتبر ہے یعنی سب میں مقدّم بیٹا، پھر پوتا، پھر پرپوتا اگرچہ کئی پشت کا فاصلہ ہو، یہ نہ ہوں تو باپ، پھر دادا، پھر پردادا، وغیرہم اصول اگرچہ کئی پشت اوپر کا ہو، پھر حقیقی بھائی، پھرسوتیلا بھائی، پھر حقیقی بھائی کا بیٹا، پھر سوتیلے بھائی کا بیٹا، پھر حقیقی چچا، پھر سوتیلا چچا، پھر حقیقی چچا کا بیٹا، پھر سوتیلے چچا کا بیٹا، پھرباپ کا حقیقی چچا، پھر سوتیلا چچا، پھر باپ کے حقیقی چچا کا بیٹا، پھر سوتیلے چچا کا بیٹا، پھر دادا کا حقیقی چچا، پھر سوتیلا چچا، پھرداداکے حقیقی چچا کا بیٹا، پھر سوتیلے چچا کا بیٹا۔
خلاصہ یہ کہ اُس خاندان میں سب سے زیادہ قریب کا رشتہ دار جو مرد ہو، وہ ولی ہے اگر بیٹا نہ ہو تو جو حکم بیٹے کا ہے وہی پوتے کا ہے، وہ نہ ہو تو پر پوتے کا اور عصبہ کے ولی ہونے میں اُس کا آزاد ہونا شرط ہے اگر غلام ہے تو اس کو ولایت نہیں بلکہ اس صورت میں ولی وہ ہوگا جو اُس کے بعد ولی ہوسکتا ہے۔ (1) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۲: کسی پاگل عورت کے باپ اور بیٹا یا داداا ور بیٹا ہیں تو بیٹا ولی ہے باپ اور دادا نہیں مگر اس عورت کا نکاح کرنا چاہیں تو بہتر یہ ہے کہ باپ اس کے بیٹے (یعنی اپنے نواسے) کو نکاح کر دینے کا حکم کر دے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: عصبہ نہ ہوں تو ماں ولی ہے، پھر دادی ،پھر نانی، پھر بیٹی ،پھر پوتی ،پھر نواسی، پھر پرپوتی ،پھر نواسی کی بیٹی، پھرنانا، پھر حقیقی بہن، پھر سوتیلی بہن ،پھر اخیافی بھائی بہن یہ دونوں ایک درجے کے ہیں، ان کے بعد بہن وغیرہا کی اولاد اسی ترتیب سے پھر پھوپی، پھر ماموں ،پھر خالہ، پھر چچازاد بہن، پھر اسی ترتیب سے ان کی اولاد۔ (3) (خانیہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: جب رشتہ دار موجود نہ ہوں تو ولی مولی الموالاۃ ہے یعنی وہ جس کے ہاتھ پر اس کا باپ مشرف باسلام ہوا اور یہ عہد کیا کہ اس کے بعد یہ اس کا وارث ہوگا یا دونوں نے ایک دوسرے کا وارث ہونا ٹھہرا لیا ہو۔ (4) (خانیہ، ردالمحتار)