مسئلہ ۲۷: رضاع کے ثبوت کے ليے عورت کے دعویٰ کرنے کی کچھ ضرورت نہیں مگر تفریق قاضی کے حکم سے ہوگی یا متارکہ سے مدخولہ میں کہنے کی ضرورت ہے، مثلاً یہ کہے کہ میں نے تجھے جدا کیا یا چھوڑا اور غیر مدخولہ میں محض اس سے علیحدہ ہوجانا کافی ہے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کسی عورت سے نکاح کیا اور ایک عورت نے آکر کہا، میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یا دونوں اس کے کہنے کو سچ سمجھتے ہوں تو نکاح فاسد ہے اور وطی نہ کی ہو تو مہر کچھ نہیں اور اگر دونوں اس کی بات جھوٹی سمجھتے ہوں تو بہتر جدائی ہے اگر وہ عورت عادلہ ہے، پھر اگر وطی نہ ہوئی ہو تو مرد کو افضل یہ ہے کہ نصف مہر دے اور عورت کو افضل یہ ہے کہ نہ لے اور وطی ہوئی ہو تو افضل یہ ہے کہ پورا مہر دے اور نان نفقہ بھی اور عورت کو افضل یہ ہے کہ مہر مثل اور مہر مقرر شدہ میں جو کم ہے وہ لے اور اگر عورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں۔ يوہيں تصدیق کی اور شوہر نے تکذیب تو نکاح فاسد نہیں مگرزوجہ شوہر سے حلف لے سکتی ہے اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو تفریق کر دی جائے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: عورت کے پاس دو عادل نے شہادت دی اورشوہر منکر ہے(3) مگر قاضی کے پاس شہادت نہیں گزری، پھر یہ گواہ مر گئے یا غائب ہوگئے تو عورت کو اس کے پاس رہنا جائز نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: صرف دو عورتوں نے قاضی کے پاس رضاع کی شہادت دی اور قاضی نے تفریق کا حکم دے دیا تو یہ حکم نافذ نہ ہوگا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: کسی عورت کی نسبت کہا کہ یہ میری دودھ شریک بہن ہے پھر اس اقرار سے پِھرگیا (6) اس کا کہنا مان لیا جائے اور اگر اقرار کے ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے، سچی ہے، صحیح ہے ، حق وہی ہے جو میں نے کہہ دیا تو اب اقرار سے پھر نہیں سکتا اور اگر اس عورت سے نکاح کر چکا تھا، اب اس قسم کا اقرار کرتا ہے تو جدائی کر دی جائے اور اگر عورت اقرار کر کے پھر گئی اگرچہ اقرار پر اصرار کیا اور ثابت رہی ہو تو اس کا قول بھی مان لیا جائے۔ دونوں اقرار کر کے پھر گئے جب بھی یہی