مسئلہ ۲۳: خنثے مشکل کو دودھ اترا اُسے بچہ کو پلایا ،تو اگر اُس کا عورت ہونا معلوم ہوا تو رضاع ہے اور مرد ہونا معلوم ہوا تو نہیں اور کچھ معلوم نہ ہوا تو اگر عورتیں کہیں اس کا دودھ مثلِ عورت کے دودھ کے ہے تو رضاع ہے ورنہ نہیں۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۴: کسی کی دو عورتیں ہیں بڑی نے چھوٹی کو جو شیر خوار (2) ہے دودھ پلا دیا تودونوں اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئیں بشرطیکہ بڑی کے ساتھ وطی کر چکا ہو اور وطی نہ کی ہو تو دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بڑی کو طلاق دے دی ہے اور طلاق کے بعد اس نے دودھ پلایا تو بڑی ہمیشہ کو حرام ہوگئی اور چھوٹی بدستور نکاح میں ہے۔ دوم یہ کہ طلاق نہیں دی ہے اور دودھ پلا دیا تو دونوں کا نکاح فسخ ہوگيا مگر چھوٹی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے اور بڑی سے وطی کی ہو تو پورا مہر پائے گی اور وطی نہ کی ہو تو کچھ نہ ملے گا مگر جب کہ دودھ پلانے پر مجبور کی گئی یا سوتی تھی سوتے میں چھوٹی نے دودھ پی لیا یا مجنونہ تھی حالتِ جنون میں دودھ پلا دیا یا اس کا دودھ کسی اور نے چھوٹی کے حلق میں ٹپکا دیا تو ان صورتوں میں نصف مہر بڑی بھی پائے گی اور چھوٹی کو نصف مہر ملے گا پھر اگر بڑی نے نکاح فسخ کرنے کے ارادہ سے پلایا تو شوہر یہ نصف مہر کہ چھوٹی کو دے گا، بڑی سے وصول کرسکتا ہے ۔
يوہيں اُس سے وصول کر سکتا ہے جس نے چھوٹی کے حلق میں دودھ ٹپکا دیا بلکہ اُس سے تو چھوٹی اور بڑی دونوں کا نصف نصف مہر وصول کرسکتا ہے جب کہ اُس کا مقصد نکاح فاسد کر دینا ہو اور اگر نکاح فاسد کرنا مقصود نہ ہو تو کسی صورت میں کسی سے نہیں لے سکتا اور اگر یہ خیال کر کے دودھ پلایا ہے، کہ بھوکی ہے ہلاک ہو جائے گی تو اس صورت میں بھی رجوع نہیں۔ عورت کہتی ہے کہ فاسدکرنے کے ارادہ سے نہ پلایا تھا تو حلف(3) کے ساتھ اس کا قول مان لیا جائے۔ (4) (جوہرہ، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: بڑی نے چھوٹی کو بھوکی جان کر دودھ پلا دیا بعد کو معلوم ہوا کہ بھوکی نہ تھی، تو یہ نہ کہا جائے گا کہ فاسد کرنے کے ارادہ سے پلایا۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۶: رضاع کے ثبوت کے ليے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عادل گواہ ہوں اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو، فقط عورتوں کی شہادت سے ثبوت نہ ہوگا مگر بہتر یہ ہے کہ عورتوں کے کہنے سے بھی جدائی کرلے۔ (6) (جوہرہ)