مسئلہ ۱۶: حقیقی بھائی کی رضاعی بہن یا رضاعی بھائی کی حقیقی بہن یا رضاعی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح جائزہے اور بھائی کی بہن سے نسب میں بھی ایک صورت جواز کی ہے، یعنی سوتیلے بھائی کی بہن جو دوسرے باپ سے ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: ایک عورت کا دو بچوں نے دودھ پیا اور ان میں ایک لڑکا، ایک لڑکی ہے تو یہ بھائی بہن ہیں اور نکاح حرام اگرچہ دونوں نے ایک وقت میں نہ پیا ہو بلکہ دونوں میں برسوں کا فاصلہ ہو اگرچہ ایک کے وقت میں ایک شوہر کا دودھ تھااوردوسرے کے وقت میں دوسرے کا۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: دودھ پینے والی لڑکی کا نکاح پلانے والی کے بیٹوں، پوتوں سے نہیں ہوسکتا، کہ یہ ان کی بہن یا پھوپی ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: جس عورت سے زنا کیا اور بچہ پیدا ہوا، اس عورت کا دودھ جس لڑکی نے پیا وہ زانی پر حرا م ہے۔ (4) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۰: پانی یا دوا میں عورت کا دودھ ملا کر پلایا تو اگر دودھ غالب ہے یا برابر تو رضاع ہے مغلوب ہے تو نہیں۔ يوہيں اگر بکری وغیرہ کسی جانور کے دودھ میں ملا کر دیا تو اگر یہ دودھ غالب ہے تو رضاع نہیں ورنہ ہے اور دو عورتوں کا دودھ ملا کر پلایا تو جس کا زیادہ ہے اس سے رضاع ثابت ہے اور دونوں برابر ہوں تو دونوں سے۔ اور ایک روایت یہ ہے کہ بہرحال دونوں سے رضاع ثابت ہے۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۱: کھانے میں عورت کا دودھ ملا کر دیا، اگر وہ پتلی چیز پینے کے قابل ہے اور دودھ غالب یا برابر ہے تو رضاع ثابت، ورنہ نہیں اور اگر پتلی چیز نہیں ہے تو مطلقاً ثابت نہیں۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: دودھ کا پنیر یا کھویا بنا کر بچہ کو کھلایا تو رضاع نہیں۔(7) (درمختار)