کی اور عورت کے بھائی، ماموں اور اس کی بہن خالہ۔ يوہيں اس شوہرکی اولادیں اس کے بھائی بہن اور اُس کے بھائی اس کے چچا اور اُس کی بہنیں، اس کی پھوپیاں خواہ شوہر کی یہ اولادیں اسی عورت سے ہوں یا دوسری سے۔ يوہيں ہر ایک کے باپ ،ماں اس کے دادا دادی، نانا ،نانی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مرد نے عورت سے جماع کیا اوراس سے اولاد نہیں ہوئی مگر دودھ اتر آیا تو جو بچہ یہ دودھ پيے گا، عورت اس کی ماں ہو جائے گی مگر شوہر اس کا باپ نہیں، لہٰذا شوہر کی اولاد جو دوسری بی بی سے ہے اس سے اس کا نکاح ہوسکتا ہے۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۳: پہلے شوہر سے عورت کی اولاد ہوئی اور دودھ موجود تھا کہ دوسرے سے نکاح ہوا اور کسی بچہ نے دودھ پیا، توپہلا شوہر اس کا باپ ہوگا دوسرا نہیں اور جب دوسرے شوہر سے اولاد ہوگئی تو اب پہلے شوہر کا دودھ نہیں بلکہ دوسرے کا ہے اورجب تک دوسرے سے اولاد نہ ہوئی اگرچہ حمل ہو پہلے ہی شوہر کا دودھ ہے دوسرے کا نہیں۔ (3) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۴: مولیٰ نے کنیز سے وطی کی اور اولاد پیدا ہوئی ،تو جو بچہ اس کنیز کا دودھ پيے گا یہ اس کی ماں ہوگی اور مولیٰ اس کا باپ۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: جو نسب میں حرام ہے رضاع (5)میں بھی حرام مگر بھائی یا بہن کی ماں کہ یہ نسب میں حرام ہے کہ وہ یااس کی ماں ہوگی یا باپ کی موطؤہ (6)اور دونوں حرام اور رضاع میں حرمت کی کوئی وجہ نہیں، لہٰذا حرام نہیں اور اس کی تین صورتیں ہیں۔ رضاعی بھائی کی رضاعی ماں یا رضاعی بھائی کی حقیقی ماں یا حقیقی بھائی کی رضاعی ماں۔ يوہيں بیٹے یا بیٹی کی بہن یا دادی کہ نسب میں پہلی صورت میں بیٹی ہوگی یا ربیبہ(7) اور دوسری صورت میں ماں ہوگی یا باپ کی موطؤہ۔ يوہيں چچایا پھوپی کی ماں یا ماموں یا خالہ کی ماں کہ نسب میں دادی نانی ہو گی اور رضاع میں حرام نہیں اور ان میں بھی وہی تین صورتیں ہیں۔ (8) (عالمگیری، درمختار)