Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
37 - 106
مگرنو برس سے چھوٹی لڑکی کا دودھ پیا تو رضاع نہیں۔ (1) (جوہرہ) 

    مسئلہ ۶: عورت نے بچہ کے مونھ میں چھاتی دی اور یہ بات لوگوں کو معلوم ہے مگر اب کہتی ہے کہ اس وقت میرے دودھ نہ تھا اور کسی اور ذریعہ سے بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ دودھ تھا یا نہیں تو اس کا کہنا مان لیا جائے گا۔ (2) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۷: بچہ کو دودھ پينا چھڑا دیا گیا ہے مگر اُس کو کسی عورت نے دودھ پلا دیا ،اگر ڈھائی برس کے اندر ہے تو رضاع ثابت ورنہ نہیں۔ (3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۸: عورت کو طلاق دے دی اس نے اپنے بچہ کو دو ۲ برس کے بعد تک دودھ پلایا تو دو ۲ برس کے بعد کی اُجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتی یعنی لڑکے کا باپ اُجرت دینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور دو ۲ برس تک کی اُجرت اس سے جبراً لی جا سکتی ہے۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۹: دو ۲ برس کے اندر بچہ کاباپ اس کی ماں کو دودھ چھڑانے پر مجبور نہیں کرسکتا اور اس کے بعد کرسکتا ہے۔ (5) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۰: عورتوں کو چاہيے کہ بلاضرورت ہر بچہ کو دودھ نہ پلا دیا کریں اور پلائیں تو خود بھی یاد رکھیں اور لوگوں سے یہ بات کہہ بھی دیں، عورت کو بغیر اجازت شوہر کسی بچہ کو دودھ پلانا مکروہ ہے، البتہ اگر اس کے ہلاک کا اندیشہ ہے تو کراہت نہیں۔ (6) (ردالمحتار) مگر میعادکے اندر رضاعت بہر صورت ثابت۔(7)

    مسئلہ ۱۱: بچہ نے جس عورت کا دودھ پیا وہ اس بچہ کی ماں ہو جائے گی اور اس کا شوہر (جس کا یہ دودھ ہے یعنی اُس کی وطی سے بچہ پیدا ہوا جس سے عورت کو دودھ اترا) اس دودھ پینے والے بچہ کا باپ ہو جائے گا اور اس عورت کی تمام اولادیں اس کے بھائی بہن خواہ اسی شوہر سے ہوں یا دوسرے شوہر سے، اس کے دودھ پینے سے پہلے کی ہیں یا بعد کی یا ساتھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۷.

2۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۲. 

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرضاع،ج۱،ص۳۴۲۔۳۴۳. 

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۴۳. 

5۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۱.

6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۹۲. 

7۔۔۔۔۔۔ یعنی ڈھائی سال یا اس سے کم عمرکے بچے کو دودھ پلایا تو حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی ۔
Flag Counter