کرسکے۔ (1) (درمختار)
قسم سوم: جمع بین المحارم ۔
مسئلہ ۲۹: وہ دو عورتیں کہ اُن میں جس ایک کو مرد فرض کریں، دوسری اس کے ليے حرام ہو (مثلاً دو بہنیں کہ ایک کو مرد فرض کرو تو بھائی، بہن کا رشتہ ہوا یا پھوپی ،بھتیجی کہ پھوپی کو مرد فرض کرو تو چچا، بھتیجی کا رشتہ ہوا اور بھتیجی کو مرد فرض کرو تو پھوپی ،بھتیجے کا رشتہ ہو ا یا خالہ ،بھانجی کہ خالہ کو مرد فرض کرو تو ماموں، بھانجی کا رشتہ ہوا اور بھانجی کو مرد فرض کرو تو بھانجے ،خالہ کارشتہ ہوا) ایسی دو ۲ عورتوں کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا بلکہ اگر طلاق دے دی ہو اگرچہ تین طلاقیں تو جب تک عدّت نہ گزرلے، دوسری سے نکاح نہیں کرسکتا بلکہ اگر ایک باندی ہے اور اُس سے وطی کی تو دوسری سے نکاح نہیں کرسکتا۔ يوہيں اگردونوں باندیاں ہیں اور ایک سے وطی کر لی تو دوسری سے وطی نہیں کرسکتا۔ (2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۳۰: ایسی دو عورتیں جن میں اس قسم کا رشتہ ہو جو اوپر مذکور ہوا وہ نسب کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دودھ کے ایسے رشتے ہوں جب بھی دونوں کا جمع کرنا حرام ہے، مثلاً عورت اور اس کی رضاعی بہن یا خالہ یا پھوپی۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: دو عورتوں میں اگر ایسا رشتہ پایا جائے کہ ایک کو مرد فرض کریں تو دوسری اس کے ليے حرام ہو اور دوسری کومرد فرض کریں تو پہلی حرام نہ ہو تو ایسی دو ۲ عورتوں کے جمع کرنے میں حرج نہیں، مثلاً عورت اور اس کے شوہر کی لڑکی کہ اس لڑکی کو مرد فرض کریں تو وہ عورت اس پر حرام ہوگی، کہ اس کی سوتیلی ماں ہوئی اور عورت کو مرد فرض کریں تولڑکی سے کوئی رشتہ پیدا نہ ہو گا يوہيں عورت اور اس کی بہو۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: باندی سے وطی کی پھر اس کی بہن سے نکاح کیا ،تو یہ نکاح صحیح ہوگيا مگر اب دونوں میں سے کسی سے وطی نہیں کرسکتا، جب تک ایک کو اپنے اوپر کسی ذریعہ سے حرام نہ کرلے، مثلاً منکوحہ کو طلاق دیدے یا وہ خلع کرالے اور دونوں صورتوں میں عدّت گزر جائے یا باندی کو بیچ ڈالے یا آزاد کر دے، خواہ پوری بیچی یاآزاد کی یا اُس کا کوئی حصہ نصف وغیرہ یا اس کو ہبہ کر دے اور قبضہ بھی دلا دے یا اُسے مکاتبہ کر دے یا اُس کا کسی سے نکاح صحیح کر دے اور اگر نکاح فاسد کر دیا تو اس کی بہن یعنی منکوحہ سے وطی نہیں ہوسکتی مگر جبکہ نکاحِ فاسد میں اس کے شوہر نے وطی بھی کر لی تو چونکہ اب اس کی عدّت واجب ہوگی،