عورت کی شرمگاہ کو چھوا یا پستان کو اور کہتا ہے کہ شہوت نہ تھی تو اس کا قول معتبر نہیں۔ (1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۳: نظر سے حرمت ثابت ہونے کے ليے نظر کرنے والے میں شہوت پائی جانا ضرور ہے اور بوسہ لینے، گلے لگانے، چھونے وغیرہ میں ان دونوں میں سے ایک کو شہوت ہوجانا کافی ہے اگرچہ دوسرے کو نہ ہو۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: مجنون اور نشہ والے سے یہ افعال ہوئے یا ان کے ساتھ کيے گئے، جب بھی وہی حکم ہے کہ اور شرطیں پائی جائیں تو حرمت ہو جائے گی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۵: کسی سے پوچھا گیا تو نے اپنی ساس کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے کہا، جماع کیا۔ حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی، اب اگر کہے میں نے جھوٹ کہہ دیا تھا نہیں مانا جائے گا بلکہ اگرچہ مذاق میں کہہ دیا ہو جب بھی یہی حکم ہے۔ (4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۶: حرمت مصاہرت مثلاً شہوت سے بوسہ لینے یا چھونے یا نظر کرنے کا اقرار کیا، تو حرمت ثابت ہوگئی اور اگر یہ کہے کہ اس عورت کے ساتھ نکاح سے پہلے اس کی ماں سے جماع کیا تھا جب بھی یہی حکم رہے گا۔ مگر عورت کا مہر اس سے باطل نہ ہوگا وہ بدستور واجب۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: کسی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لڑکے نے عورت کی لڑکی سے کیا، جو دوسرے شوہر سے ہے تو حرج نہیں۔ يوہيں اگر لڑکے نے عورت کی ماں سے نکاح کیا جب بھی یہی حکم ہے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: عورت نے دعویٰ کیا کہ مرد نے اس کے اصول یا فروع کو بشہوت چھوا یا بوسہ لیا یا کوئی اور بات کی ہے، جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے اور مرد نے انکار کیا توقول مرد کا لیا جائے گا یعنی جبکہ عورت گواہ نہ پیش