میں ہے یعنی اگر خلوتِ صحیحہ عورت کے ساتھ ہوگئی، اس کی لڑکی حرام ہوگئی اگرچہ وطی نہ کی ہو۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: نکاح فاسد سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ،جب تک وطی نہ ہو لہٰذا اگر کسی عورت سے نکاح فاسد کیا تو عورت کی ماں اس پر حرام نہیں اور جب وطی ہوئی تو حرمت ثابت ہوگئی کہ وطی سے مطلقاً حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ خواہ وطی حلال ہو یا شبہہ و زنا سے، مثلاً بیع فاسد سے خریدی ہوئی کنیز سے یا کنیزِ مشترک(2) یا مکاتبہ یا جس عورت سے ظہار کیا یا مجوسیہ باندی یا اپنی زوجہ سے، حیض و نفاس میں یا احرام و روزہ میں غرض کسی طور پر وطی ہو، حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی لہٰذا جس عورت سے زنا کیا، اس کی ماں اور لڑکیاں اس پر حرام ہیں۔ يوہيں وہ عورت زانیہ اس شخص کے باپ ،دادا اور بیٹوں پر حرام ہو جاتی ہے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: حرمت مصاہرت جس طرح وطی سے ہوتی ہے، يوہيں بشہوت (4) چھونے اور بوسہ لینے اور فرج داخل(5) کی طرف نظر کرنے اور گلے لگانے اور دانت سے کاٹنے اور مباشرت، یہاں تک کہ سر پر جو بال ہوں اُنھيں چھونے سے بھی حرمت ہو جاتی ہے اگرچہ کوئی کپڑا بھی حائل ہو(6) مگر جب اتنا موٹا کپڑا حائل ہو کہ گرمی محسوس نہ ہو۔ يوہيں بوسہ لینے میں بھی اگر باریک نقاب حائل ہو تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔ خواہ یہ باتیں جائز طور پر ہوں، مثلاً منکوحہ کنیز ہے یا ناجائز طور پر۔ جو بال سر سے لٹک رہے ہوں انھيں بشہوت چھوا تو حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوئی۔ (7) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۱۱: فرجِ داخل کی طرف نظر کرنے کی صورت میں اگر شیشہ درمیان میں ہو یا عورت پانی میں تھی اس کی نظر وہاں تک پہنچی جب بھی حرمت ثابت ہوگئی، البتہ آئینہ یا پانی میں عکس دکھائی دیا تو حرمت مصاہرت نہیں۔ (8) (درمختار، عالمگیری)