Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
22 - 106
(حرمتِ نسب)
    مسئلہ ۱: دادی، نانی، پردادی، پرنانی اگرچہ کتنی ہی اوپر کی ہوں سب حرام ہیں اور یہ سب ماں میں داخل ہیں کہ یہ باپ یا ماں یا دادا، دادی، نانا، نانی کی مائیں ہیں کہ ماں سے مراد وہ عورت ہے، جس کی اولاد میں یہ ہے بلاواسطہ یا بواسطہ۔ 

    مسئلہ ۲: بیٹی سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اس کی اولاد ہیں۔ لہٰذا پوتی، پرپوتی، نواسی، پرنواسی اگرچہ درمیان میں کتنی ہی پشتوں کا فاصلہ ہو سب حرام ہیں۔ 

    مسئلہ ۳: بہن خواہ حقیقی ہو یعنی ایک ماں باپ سے یا سوتیلی کہ باپ دونوں کا ایک ہے اور مائیں دو یا ماں ایک ہے اور باپ دو سب حرام ہیں۔ 

    مسئلہ ۴: باپ، ماں، دادا، دادی، نانا، نانی، وغیرہم اصول کی پھوپیاں یا خالائیں اپنی پھوپی اور خالہ کے حکم میں ہیں۔ خواہ یہ حقیقی ہوں یا سوتیلی۔ يوہيں حقیقی یا علاتی پھوپی کی پھوپی یا حقیقی یا اخیافی خالہ کی خالہ۔ 

    مسئلہ ۵: بھتیجی ،بھانجی سے بھائی ،بہن کی اولادیں مراد ہیں، ان کی پوتیاں، نواسیاں بھی اسی میں شمار ہیں۔ 

    مسئلہ ۶: زنا سے بیٹی ، پوتی ، بہن، بھتیجی، بھانجی بھی محرمات میں ہیں۔ 

    مسئلہ ۷: جس عورت سے اس کے شوہر نے لعان کیا اگرچہ اس کی لڑکی اپنی ماں کی طرف منسوب ہوگی مگر پھر بھی اس شخص پر وہ لڑکی حرام ہے۔ (1)(ردالمحتار)
(حرمتِ مصاہرت)
    قسم دوم مصاہرت: 1 زوجۂ موطؤہ (2) کی لڑکیاں، 2 زوجہ کی ماں، دادیاں، نانیاں، 3 باپ ،دادا وغیرہما اصول کی بیبیاں، 4 بیٹے پوتے وغیرہما فروع کی بیبیاں۔ 

    مسئلہ ۸: جس عورت سے نکاح کیا اور وطی نہ کی تھی کہ جدائی ہوگئی اُس کی لڑکی اس پر حرام نہیں، نیز حرمت اس صورت میں ہے کہ وہ عورت مشتہاۃ (3)ہو، اس لڑکی کا اس کی پرورش میں ہونا ضروری نہیں اور خلوتِ صحیحہ(4) بھی وطی ہی کے حکم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح، فصل في المحرمات، ج۴، ص۱۰۹.

2۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ بیوی جس سے صحبت کی گئی ہو ۔         3۔۔۔۔۔۔ قابل شہوت ہو یعنی نو برس سے کم عمر کی نہ ہو۔

4۔۔۔۔۔۔خلوت صحیحہ: یعنی میاں بیوی کااس طرح تنہا ہونا کہ جماع سے کوئی مانع شرعی یاطبعی یا حسی نہ ہو۔ مانع حسی سے مراد زوجین سے کوئی ایسی بیماری میں ہو کہ صحبت نہیں کر سکتا ہو ۔مانع طبعی شوہر اور عورت کے درمیان کسی تیسرے کا ہونا۔ اورمانع شرعی کی مثال عورت کا حیض یا نفاس کی حالت میں ہونا یانماز فرض میں ہونا ۔(اس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔...عِلْمِیہ
Flag Counter