مسئلہ ۱: دادی، نانی، پردادی، پرنانی اگرچہ کتنی ہی اوپر کی ہوں سب حرام ہیں اور یہ سب ماں میں داخل ہیں کہ یہ باپ یا ماں یا دادا، دادی، نانا، نانی کی مائیں ہیں کہ ماں سے مراد وہ عورت ہے، جس کی اولاد میں یہ ہے بلاواسطہ یا بواسطہ۔
مسئلہ ۲: بیٹی سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اس کی اولاد ہیں۔ لہٰذا پوتی، پرپوتی، نواسی، پرنواسی اگرچہ درمیان میں کتنی ہی پشتوں کا فاصلہ ہو سب حرام ہیں۔
مسئلہ ۳: بہن خواہ حقیقی ہو یعنی ایک ماں باپ سے یا سوتیلی کہ باپ دونوں کا ایک ہے اور مائیں دو یا ماں ایک ہے اور باپ دو سب حرام ہیں۔
مسئلہ ۴: باپ، ماں، دادا، دادی، نانا، نانی، وغیرہم اصول کی پھوپیاں یا خالائیں اپنی پھوپی اور خالہ کے حکم میں ہیں۔ خواہ یہ حقیقی ہوں یا سوتیلی۔ يوہيں حقیقی یا علاتی پھوپی کی پھوپی یا حقیقی یا اخیافی خالہ کی خالہ۔
مسئلہ ۵: بھتیجی ،بھانجی سے بھائی ،بہن کی اولادیں مراد ہیں، ان کی پوتیاں، نواسیاں بھی اسی میں شمار ہیں۔
مسئلہ ۶: زنا سے بیٹی ، پوتی ، بہن، بھتیجی، بھانجی بھی محرمات میں ہیں۔
مسئلہ ۷: جس عورت سے اس کے شوہر نے لعان کیا اگرچہ اس کی لڑکی اپنی ماں کی طرف منسوب ہوگی مگر پھر بھی اس شخص پر وہ لڑکی حرام ہے۔ (1)(ردالمحتار)