Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
21 - 106
    مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ لائیں، بیشک مسلمان باندی مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ تمھیں یہ بھلی معلوم ہوتی ہو اور مشرکوں سے نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ لائیں، بیشک مسلمان غلام مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ تمھیں یہ اچھا معلوم ہوتا ہو، یہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اﷲ (عزوجل) بلاتا ہے جنت و مغفرت کی طرف اپنے حکم سے اور لوگوں کے ليے اپنی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے تاکہ لوگ نصیحت مانیں۔

    حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''عورت اور اُس کی پھوپی کو جمع نہ کیا جائے اور نہ عورت اور اُس کی خالہ کو۔'' (1) 

    حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و دارمی و نسائی کی روایت اُنھيں سے ہے، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اِس سے منع فرمایا کہ پھوپی کے نکاح میں ہوتے اُس کی بھتیجی سے نکاح کیا جائے یا بھتیجی کے ہوتے اُس کی پھوپی سے یا خالہ کے ہوتے اُس کی بھانجی سے یا بھانجی کے ہوتے اُس کی خالہ سے۔'' (2) 

    حدیث ۳: امام بخاری عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو عورتیں ولادت (نسب) سے حرام ہیں، وہ رضاعت سے حرام ہیں۔'' (3) 

    حدیث ۴: صحیح مسلم میں مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بیشک اﷲ تعالیٰ نے رضاعت سے اُنھيں حرام کر دیا جنھیں نسب سے حرام فرمایا۔'' (4)
مسائلِ فقہیہ
    محرمات وہ عورتیں ہیں جن سے نکاح حرام ہے اور حرام ہونے کے چند سبب ہیں، لہٰذا اس بیان کو نو قسم پر منقسم(5) کیا جاتا ہے :

    قسم اوّل نسب: اس قسم میں سات ۷ عورتیں ہیں: 

    1 ماں، 2 بیٹی، 3 بہن، 4 پھوپی، 5 خالہ، 6 بھتیجی، 7 بھانجی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب النکاح، باب تحریم الجمع بین المرأۃ...إلخ، الحدیث: ۳۳۔ (۱۴۰۸)، ص۷۳۱. 

2۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذی''، أبواب النکاح، باب ماجاء لاتنکح المرأۃ علی عمتھا...إلخ، الحدیث: ۱۱۲۹،ج۲،ص۳۶۷. 

3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب مایحل من الدخول والنظرالی النساء في الرضاع،الحدیث: ۵۲۳۹،ج۳، ص۴۶۴.

4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الرضاع، باب تحریم ابنۃ الأخ من الرضاعۃ،الحدیث:۱۱و۱۳۔( ۱۴۴۶)، ص۷۶۱. 

و''مشکاۃالمصابیح''،کتاب النکاح،باب المحرمات،الحدیث۳۱۶۳،ج۲،ص۲۱۷.

5۔۔۔۔۔۔یعنی تقسیم۔
Flag Counter