مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ لائیں، بیشک مسلمان باندی مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ تمھیں یہ بھلی معلوم ہوتی ہو اور مشرکوں سے نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ لائیں، بیشک مسلمان غلام مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ تمھیں یہ اچھا معلوم ہوتا ہو، یہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اﷲ (عزوجل) بلاتا ہے جنت و مغفرت کی طرف اپنے حکم سے اور لوگوں کے ليے اپنی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے تاکہ لوگ نصیحت مانیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''عورت اور اُس کی پھوپی کو جمع نہ کیا جائے اور نہ عورت اور اُس کی خالہ کو۔'' (1)
حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و دارمی و نسائی کی روایت اُنھيں سے ہے، کہ حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اِس سے منع فرمایا کہ پھوپی کے نکاح میں ہوتے اُس کی بھتیجی سے نکاح کیا جائے یا بھتیجی کے ہوتے اُس کی پھوپی سے یا خالہ کے ہوتے اُس کی بھانجی سے یا بھانجی کے ہوتے اُس کی خالہ سے۔'' (2)
حدیث ۳: امام بخاری عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو عورتیں ولادت (نسب) سے حرام ہیں، وہ رضاعت سے حرام ہیں۔'' (3)
حدیث ۴: صحیح مسلم میں مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بیشک اﷲ تعالیٰ نے رضاعت سے اُنھيں حرام کر دیا جنھیں نسب سے حرام فرمایا۔'' (4)