Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
104 - 106
    حدیث ۲۱: صحیحین میں عبداﷲ بن زمعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی شخص اپنی عورت کو نہ مارے جیسے غلام کو مارتا ہے پھر دوسرے وقت اس سے مجامعت کریگا۔'' (1) 

     دوسری روایت میں ہے، ''عورت کو غلام کی طرح مارنے کا قصد کرتا ہے (یعنی ایسا نہ کرے) کہ شاید دوسرے وقت اسے اپنا ہم خواب کرے۔'' (2) یعنی زوجیت کے تعلقات اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک کو دوسرے کی حاجت اور باہم ایسے مراسم کہ ان کو چھوڑنا دشوار لہٰذا جوان باتوں کا خیال کریگا مارنے کا ہرگز قصد نہ کریگا۔
شادی کے رسوم
    شادیوں میں طرح طرح کی رسمیں برتی جاتی ہيں، ہر ملک میں نئی رسوم ہر قوم و خاندان کے رواج اور طریقے جداگانہ جو رسمیں ہمارے ملک میں جاری ہیں ان میں بعض کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ رسوم کی بنا عرف پر ہے یہ کوئی نہیں سمجھتا کہ شرعاً واجب یا سنت یا مستحب ہیں لہٰذا جب تک کسی رسم کی ممانعت شریعت سے ثابت نہ ہواُس وقت تک اُسے حرام و ناجائز نہیں کہہ سکتے کھینچ تان کر ممنوع قرار دینا زیادتی ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ رسوم کی پابندی اسی حد تک کر سکتا ہے کہ کسی فعل حرام میں مبتلا نہ ہو۔ 

    بعض لوگ اِس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل کرنا پڑے تو پڑے مگر رسم کا چھوڑنا گوارا نہیں، مثلاً لڑکی جوان ہے اور رسوم ادا کرنے کو روپیہ نہیں تو یہ نہ ہوگا کہ رسوم چھوڑ دیں اور نکاح کر دیں کہ سبکدوش ہوں(3) اور فتنہ کا دروازہ بند ہو۔ اب رسوم کے پورا کرنے کو بھیک مانگنے طرح طرح کی فکریں کرتے، اس خیال میں کہ کہیں سے مل جائے تو شادی کریں برسیں(4) گزار دیتے ہیں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ بعض لوگ قرض لے کر رسوم کو انجام دیتے ہیں، یہ ظاہر کہ مفلس کو قرض دے کون پھر جب یوں قرض نہ ملا تو بنیوں(5) کے پاس گئے اور سودی قرض کی نوبت آئی سود لینا جس طرح حرام اسی طرح دینا بھی حرام حدیث میں دونوں پر لعنت آئی اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی لعنت کے مستحق ہوتے اور شریعت کی مخالفت کرتے ہیں مگر رسم چھوڑنا گوارا نہیں کرتے۔ پھر اگر باپ دادا کی کمائی ہوئی کچھ جائداد ہے تو اُسے سودی قرض میں مکفول کیا ورنہ رہنے کا جھونپڑا ہی گرو ی رکھا تھوڑے دنوں میں سود کا سیلاب سب کو بہا لے گیا۔ جائداد نیلام ہوگئی مکان بنیے کے قبضہ میں گیا دربدر مارے مارے پھرتے ہیں نہ کھانے کا ٹھکانہ، نہ رہنے کی جگہ اسکی مثالیں ہر جگہ بکثرت ملیں گی کہ ایسے ہی غیر ضروری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب مایکرہ من ضرب النساء،الحدیث:۵۲۰۴،ج۳،ص۴۶۵. 

2 ۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب التفسیر،سورۃ (والشمس وضحٰھا)،الحدیث:۴۹۴۲،ج۳،ص۳۷۸.

3 ۔۔۔۔۔۔یعنی بری الذمہ۔    4 ۔۔۔۔۔۔یعنی کئی سال۔        5 ۔۔۔۔۔۔یعنی ہندوتاجروں۔
Flag Counter