حدیث ۱۷: بیہقی شعب الایمان میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''تین شخص ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور ان کی کوئی نیکی بلند نہیں ہوتی: (۱) بھاگا ہوا غلام جب تک اپنے آقاؤں کے پاس لوٹ نہ آئے اور اپنے کو ان کے قابو میں نہ دے دے۔ اور(۲) وہ عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہے اور (۳) نشہ والا جب تک ہوش میں نہ آئے ۔ (1)
یہ چند حدیثیں حقوقِ شوہر کی ذکر کی گئیں عورتوں پر لازم ہے کہ حقوقِ شوہر کا تحفظ کریں اور شوہر کو ناراض کر کے اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا وبال اپنے سر نہ لیں کہ اس میں دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے نہ دنیا میں چین نہ آخرت میں راحت۔
اب بعض وہ احادیث ذکر کی جاتی ہیں کہ مردوں کو عورتوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہيے ، مردوں پر ضرور ہے کہ ان کا لحاظ کریں اور ان ارشاداتِ عالیہ کی پابندی کریں۔
حدیث ۱۸: بخاری و مسلم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورتوں کے بارے میں بھلائی کرنے کی وصیت فرماتا ہوں تم میری اس وصیت کو قبول کرو ۔ وہ پسلی سے پیدا کی گئیں اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھی اوپر والی ہے اگر تو اسے سیدھا کرنے چلے تو توڑ دے گا اور اگر ویسی ہی رہنے دے تو ٹیڑھی باقی رہے گی۔'' (2)
اور مسلم شریف کی دوسری روایت میں ہے، کہ ''عورت پسلی سے پیدا کی گئی، وہ تیرے ليے کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی اگر تو اسے برتنا چاہے تو اسی حالت میں برت سکتا ہے اور سیدھا کرنا چاہے گا تو توڑ دے گا اور توڑنا طلاق دینا ہے۔'' (3)
حدیث ۱۹: صحیح مسلم میں انھیں سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسلمان مرد عورت مومنہ کو مبغوض نہ رکھے اگر اس کی ایک عادت بُری معلوم ہوتی ہے دوسری پسند ہوگی۔'' (4) یعنی تمام عادتیں خراب نہیں ہوں گی جب کہ اچھی بُری ہر قسم کی باتیں ہو ں گی تو مرد کو یہ نہ چاہيے کہ خراب ہی عادت کو دیکھتا رہے بلکہ بُری عادت سے چشم پوشی کرے اور اچھی عادت کی طرف نظر کرے۔
حدیث ۲۰: حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں اچھے وہ لوگ ہیں جو عورتوں سے اچھی طرح پیش آئیں''۔(5)