اور اسے نیک کام کی یاد دلائے اور اپنی عصمت اور اس کے مال میں خیانت نہ کرے تو اس کے اور شہیدوں کے درمیان جنت میں ایک درجہ کا فرق ہوگا، پھر اس کا شوہر باایمان نیک خو ہے تو جنت میں وہ اس کی بی بی ہے، ورنہ شہدا میں سے کوئی اس کا شوہر ہوگا۔'' (1)
حدیث ۱۲: ابو داود و طیالسی و ابن عساکر ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''شوہر کا حق عورت پر یہ ہے کہ اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اور سوا فرض کے کسی دن بغیر اس کی اجازت کے روزہ نہ رکھے اگر ایساکیا یعنی بغیر اجازت روزہ رکھ لیا تو گنہگار ہوئی اور بدون اجازت (2) اس کا کوئی عمل مقبول نہیں اگر عورت نے کر لیا تو شوہر کو ثواب ہے اور عورت پر گناہ اور بغیر اجازت اس کے گھر سے نہ جائے، اگر ایسا کیا تو جب تک توبہ نہ کرے اﷲ (عزوجل) اور فرشے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ عرض کی گئی اگرچہ شوہر ظالم ہو۔ فرمایا: اگرچہ ظالم ہو۔'' (3)
حدیث ۱۳: طبرانی تمیم داری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورت پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اس کے بچھونے کو نہ چھوڑے اور اسکی قسم کو سچا کرے اور بغیر اس کی اجازت کے باہر نہ جائے اور ایسے شخص کو مکان میں آنے نہ دے جس کا آنا شوہر کو پسند نہ ہو۔'' (4)
حدیث ۱۴: ابونعیم علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا: ''اے عورتو! خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا مندی کی تلاش ميں رہو، اس ليے کہ عورت کو اگر معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو جب تک اس کے پاس کھانا حاضر رہتا یہ کھڑی رہتی۔'' (5)
حدیث ۱۵: ابونعیم حلیہ میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفّت کی محافظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔'' (6)
حدیث ۱۶: ترمذی ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ''جو عورت اس حال میں مری کہ شوہر راضی تھا، وہ جنت میں داخل ہوگی۔'' (7)