13 اِکراہ شرعی اکراہ(جبر کرنا)کے شرعی معنی یہ ہیں کہ کسی کے ساتھ ناحق ایسا فعل کرناکہ وہ شخص ایسا کام کرے جس کو وہ کرنا نہیں چاہتااور کبھی مکرِہ(مجبور کرنے والے)کی جانب سے کوئی ایسا فعل نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے مکرَہ (جسے مجبور کیا جائے)اپنی مرضی کے خلاف کرے مگر مکرَہ جانتا ہے کہ یہ شخص ظالم ہے جو کچھ کہتا ہے اگر میں نے نہ کیاتو مجھے مار ڈالے گا اس صورت میں بھی اکراہ ہے۔ (ماخوذازبہارشریعت،حصہ۵ا،ص۳)
14 اُم ولد وہ لونڈی جس کے ہاں بچہ پیداہوااورمولیٰ نے اقرار کیاکہ یہ میرابچہ ہے۔
( بہارشریعت،ج۲، حصہ ۹،ص۹۴ ۲)
15 اَیامِ تَشْرِیق دس ذوالحجہ کے بعد کے تین دن(۱۱و۱۲و۱۳) کوایام تشریق کہتے ہیں ۔ (ردالمحتار،ج۳،ص۷۱)
16 اَیامِ مَنہیّہ عیدالفطر،عیدالاضحی اورگیارہ ،بارہ ،تیرہ ذی الحجہ کے دن کہ ان میں روزہ رکھنامنع ہے اسی وجہ سے انھیں ایام منہیہ کہتے ہیں۔ (ماخوذاز بہارشریعت ،ج۱،حصہ۵،ص۹۶۷)
17 ایجاب وقبول نکاح(عقد) کرنے والوں میں سے پہلے کاکلام ایجاب اوردوسرے کا قبول کہلاتاہے۔ (ردالمحتار،ج۴،ص ۷۸)
18 ایلا شوہرکایہ قسم کھاناکہ عورت سے قربت نہ کریگا یا چار مہینے قربت نہ کریگا ۔
( بہار شریعت ،ج۲،حصہ۸،ص۱۸۲)
19 اِیلائے مُؤبّد ایسا ایلا جس میں چار مہینے کی قید نہ ہو ۔ (ماخوذاز بہارشریعت ،ج۲،حصہ۸،ص۱۸۳)
20 اِیلائے مؤقّت ایسا ایلا جس میں چار مہینے کی قید ہو ۔ (ماخوذاز بہارشریعت ،ج۲،حصہ۸،ص۱۸۳)