| بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7) |
97 رُکن کسی شے کارکن وہ چیز ہوتی ہے جس سے اس شے کی تکمیل ہواور وہ چیز اس شے میں داخل ہوجیسے نمازمیں رکوع وغیرہ۔ (ماخوذمن التعریفات،ص۸۲) 98 رہن دوسرے کے مال کواپنے حق میں اپنے پاس اس لیے روک رکھناکہ اس کے ذریعے سے اپنے حق کوکلاً یاجزاً حاصل کر نا ممکن ہو،کبھی اس چیز کو بھی رہن کہتے ہیں جو رکھی گئی ہے۔ ( بہار شریعت ،حصہ ۱۷،ص۳۱)
س
99 سَعایت (محنت کرنا کوشش کرنا) غلام کا کچھ حصہ آزاد ہوچکاہو اور بقیہ کی آزادی کے لئے محنت مزدوری کرکے مالک کوقیمت ادا کررہا ہو غلام کے اس فعل کو سَعایت کہتے ہیں۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ،ج۲۵،ص۶)
ش
100 شبہہ فعل یاشبہہ اشتباہ : یعنی فعل حرام ہو لیکن وہ اس کو حلال گمان کرکے اس کا ارتکاب کربیٹھے مثلاً اپنی عورت کو تین طلاقیں دینے کے بعد اس کے ساتھ عدت میں وطی کرلے یہ سمجھ کر کہ عدت کے اندر وطی حلال ہے۔ (ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۲،حصہ ۹، ص۳۷۹) 101 شرط: وہ شے جوحقیقت شیئ میں داخل نہ ہولیکن اس کے بغیرشے موجودنہ ہو،جیسے نمازکے لیے وضو وغیرہ۔ (ماخوذازفتاوی رضویہ ،ج۱۰،ص ۷۸۶) 102 شرکت: شرکت ایسے معاملہ کانام ہے جس میں دوافرادسرمایہ اورنفع میں شریک رہنا طے کریں۔ (الدرالمختار،ج ۶ ،ص۴۵۹) 103 شرکتِ اختیاری شرکتِ اختیاری یہ ہے کہ شریکین کے فعل واختیار سے شرکت ہوئی ہو۔(ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۲،حصہ ۱۰ ،ص۴۸۹) 104 شرکت بالابدان دیکھیے شرکت بالعمل۔ 105 شرکت بالعمل : شرکت بالعمل یہ ہے کہ دو کاریگر لوگوں کے یہاں سے کام لائیں اور شرکت میں کام کریں اور جو کچھ مزدوری ملے آپس میں بانٹ لیں۔اسی کو شرکت بالابدان اور شرکت تقبل وشرکتِ صنائع بھی کہتے ہیں۔ (بہارشریعت ،ج۲،حصہ ۱۰ ،ص۵۰۵) 106 شرکت تقبل دیکھیے شرکت بالعمل۔