اُتر گئی یا دانتوں سے خون نکل کر حلق تک پہنچا، مگر حلق سے نیچے نہ اُترا تو ان سب صورتوں میں روزہ نہ گیا۔ (1) (درمختار، فتح القدیر)
مسئلہ ۷: روزہ دار کے پیٹ میں کسی نے نیزہ یا تیر بھونک دیا، اگرچہ اس کی بھال یا پیکان (2) پیٹ کے اندر رہ گئی یا اس کے پیٹ میں جھلّی تک زخم تھا، کسی نے کنکری ماری کہ اندر چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا اور اگر خود اس نے یہ سب کیا اور بھال یا پیکان یا کنکری اندر رہ گئی تو جاتا رہا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: بات کرنے میں تھوک سے ہونٹ تر ہوگئے اور اُسے پی گیا یا مونھ سے رال ٹپکی، مگر تار ٹوٹا نہ تھا کہ اُسے چڑھا کر پی گیا یا ناک میں رینٹھ آگئی بلکہ ناک سے باہر ہوگئی مگر منقطع نہ ہوئی تھی کہ اُسے چڑھا کر نگل گیا یا کھنکار مونھ میں آیا اور کھا گیا اگرچہ کتنا ہی ہو، روزہ نہ جائے گا مگر ان باتوں سے احتیاط چاہیے۔ (4) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: مکھی حلق میں چلی گئی روزہ نہ گیا اور قصداً نگلی تو جاتا رہا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: بھولے سے جماع کر رہا تھا یاد آتے ہی الگ ہوگیا یا صبح صادق سے پیشتر جماع میں مشغول تھا صبح ہوتے ہی جدا ہوگیا روزہ نہ گیا، اگرچہ دونوں صورتوں میں جدا ہونے کے بعد انزال ہوگیا ہو اگرچہ دونوں صورتوں میں جُدا ہونا یاد آنے اور صبح ہونے پر ہوا کہ جدا ہونے کی حرکت جماع نہیں اور اگر یاد آنے یا صبح ہونے پر فوراً الگ نہ ہوا اگرچہ صرف ٹھہر گیا اور حرکت نہ کی روزہ جاتا رہا۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: بھولے سے کھانا کھا رہا تھا، یاد آتے ہی فوراً لقمہ پھینک دیا یا صبح صادق سے پہلے کھا رہا تھا اور صبح ہوتے ہی اُگل دیا، روزہ نہ گیا اور نگل لیا تو دونوں صورتوں میں جاتا رہا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: غیر سبیلین (8) میں جماع کیا تو جب تک انزال نہ ہو روزہ نہ ٹوٹے گا۔ یوہیں ہاتھ سے منی نکالنے میں