واجب۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مکّھی یا دُھواں یا غبارحلق میں جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ خواہ وہ غبار آٹے کا ہو کہ چکّی پیسنے یا چھاننے میں اڑتا ہے یا غلّہ کا غبار ہو یا ہوا سے خاک اُڑی یاجانوروں کے کُھر یا ٹاپ سے غبار اُڑ کر حلق میں پہنچا، اگرچہ روزہ دار ہونا یاد تھا اور اگر خود قصداً دھواں پہنچایا تو فاسد ہوگیا جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو، خواہ وہ کسی چیز کا دھواں ہو اور کسی طرح پہنچایا ہو، یہاں تک کہ اگر کی بتی وغیرہ خوشبو سُلگتی تھی، اُس نے مونھ قریب کر کے دھوئیں کو ناک سے کھینچا روزہ جاتا رہا۔ یوہیں حقّہ پینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اگر روزہ یاد ہو اور حقّہ پینے والا اگر پیے گا تو کفارہ بھی لازم آئے گا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۴: بھری سنگی لگوائی (3) یا تیل یا سُرمہ لگایا تو روزہ نہ گیا، اگرچہ تیل یا سُرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو بلکہ تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو، جب بھی نہیں ٹوٹا۔ (4) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: بوسہ لیا مگر انزال نہ ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹا۔ یوہیں عورت کی طرف بلکہ اس کی شرم گاہ کی طرف نظر کی مگر ہاتھ نہ لگایا اور انزال ہوگیا، اگرچہ بار بار نظر کرنے یا جماع وغیرہ کے خیال کرنے سے انزال ہوا، اگرچہ دیر تک خیال جمانے سے ایسا ہوا ہو ان سب صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹا۔ (5) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۶: غسل کیا اور پانی کی خنکی (6) اندر محسو س ہوئی یا کُلّی کی اور پانی بالکل پھینک دیا صرف کچھ تری مونھ میں باقی رہ گئی، تھوک کے ساتھ اُسے نگل گیا یا دوا کوٹی اور حلق میں اُس کا مزہ محسوس ہوا یا ہڑ چوسی اور تھوک نگل گیا، مگر تھوک کے ساتھ ہڑ (7) کا کوئی جُز حلق میں نہ پہنچا یا کان میں پانی چلا گیا یا تنکے سے کان کھجایا اور اُس پر کان کا میل لگ گیا پھر وہی میل لگا ہوا تنکا کان میں ڈالا، اگرچہ چند بار کیا ہو یا دانت یا مونھ میں خفیف چیز بے معلوم سی رہ گئی کہ لعاب کے ساتھ خود ہی اُتر جائے گی اور وہ